جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں کشیدگی بڑھ گئی،مشتعل مظاہرین نے جہانگیر ترین کو بھی گھیر لیاپھر کیا ہوا،تشویشناک صورتحال

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

قصور(آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) زینب قتل کیس پر قصور میں فضابدستورسوگوار ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر دوسر ے روز بھی مظا ہر ے کیے گئے جب کہ شہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا۔ قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی زینب کے قاتل اب تک گرفتار نہیں کیے جاسکے جس پر دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔قصور کا فیروز پور روڈ ٹریفک کی

آمد و رفت کے لئے بند ہے اور مظاہرین کا کالی پل چوک پر دھرنا جاری ہے جب کہ قصور کا   دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ وکلا نے قصور میں بچی کے قتل کے خلاف ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا، پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی ۔علا وہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ زینب کے گھر پہنچے اور والدین سے اظہار تعزیت کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صبح 5 بجے اچانک قصور میں مقتولہ زینب کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان اور اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جب کہ ڈی پی او قصور زاہد خان مروت نے واقعہ کی بریفنگ دی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا جتنا ظلم اور زیادتی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے، لمحہ بہ لمحہ اس کیس کی نگرانی کر رہا ہوں اور واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا۔دریں اثنا تحریک اںصاف کا وفد جہانگیر ترین کی قیادت میں اظہار تعزیت کیلئے روانہ ہوا توان کے ہمراہ علیم ڈاراسحاق خاکوانی بھی تھے، راستے میں انہیں روک لیا گیااور ان کی گاڑی کا گھیرائو کر لیا گیا، تینوں شخصیات گاڑی سے باہر نکلیں اور اپنا تعارف کرایا،تو مظاہرین نے انہیں آگے جانے کی اجازت دی۔لیکن انہوں نے گاڑی کے بجائے پیدل سفر کرنے کو ترجیح دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…