جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں ایک طرح کے بارہ واقعات ،ایک ہی عمر کی بچیوں کو نشانا بنایا جاتارہا،پولیس کہاں سو رہی تھی ؟شہبازشریف نے بھی ’’بارہ نوٹسز ‘‘لئے ،افسوسناک انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی نے قصور میں بچیوں کے اغوا، زنا اور قتل کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قصور میں ایک طرح کے بارہ واقعات ہوئے پولیس کہاں سو رہی تھی ؟، ایک طرح کے واقعات میں ایک ہی عمر کی بچیوں کو نشانا بنایا جا رہا ہے،واقعات سے ظاہر ہوتا ہے ایک ہی شخص یا ایک گروہ ملوث ہے، پولیس واقعات سے متعلق اٹھنے والے سوالوں کے جواب دے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور

نے سوال کیا کہ تین ڈی پی او اور بدلے لیکن مجرم تک کیوں نہیں پہنچ سکی، سوال نمبر دو جب بچی کو اغواء کرنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی تھی تو علاقے کو سیل کرکے تلاشی کیوں نہیں لی گئی ؟،تلاشی لی جاتی تو بچیاں بھی بازیاب ہو جاتیں اور ملزم بھی پکڑے جاتے،واقعات کے مطابق اغواء کردہ بچی کی لاش وہیں پھینکی جاتی ہے جس علاقے کی وہ رہائشی ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پرانے واقعات کی روشنی میں پولیس نے ان اغواء کے بعد ان علاقوں کی ناکہ بندی کیوں نہ کی، پولیس ان واقعات کو عام واقعات کی طرح کیوں دیکھتی رہی، پولیس اور پنجاب حکومت نے پے درپے ہونے والے سانحات کے باوجود کوئی اقدام کیوں نہ کیا، بارہ واقعات پر شوباز شریف نے بارہ نوٹسز لئے لیکن ایک بھی ملزم گرفتار نہ ہو،لوگ شوباز شریف کے ایسے نوٹسز کا کیا کریں جن سے کسی کو انصاف نہ ملے۔  پاکستان پیپلز پارٹی نے قصور میں بچیوں کے اغوا، زنا اور قتل کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قصور میں ایک طرح کے بارہ واقعات ہوئے پولیس کہاں سو رہی تھی ؟، ایک طرح کے واقعات میں ایک ہی عمر کی بچیوں کو نشانا بنایا جا رہا ہے،واقعات سے ظاہر ہوتا ہے ایک ہی شخص یا ایک گروہ ملوث ہے، پولیس واقعات سے متعلق اٹھنے والے سوالوں کے جواب دے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے سوال کیا کہ تین ڈی پی او اور بدلے لیکن مجرم تک کیوں نہیں پہنچ سکی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…