جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میجر(ر) منیر احمدکوقتل کرنے والے ملزمان گرفتار ،آلہ قتل برآمد ،قتل کیوں کیاگیا؟انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 8  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) انویسٹی گیشن پولیس ہومی سائیڈ یونٹ کاہنہ نے چند ماہ قبل میجر(ر) منیر احمدکوقتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل اور نقدی برآمد کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل میجر (ر)منیر احمد کو نامعلوم ملزمان نے قتل کر دیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ نشتر کالونی میں درج ہوا۔ واقعہ کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبشر میکن نے ایس پی ماڈلٹاؤن انویسٹی گیشن ابرار حسین

نیکوکارکو اس لرزہ خیر واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا ٹاسک دیا۔جس پر انہوں نے ہومی سائیڈ انچارج سب انسپکٹر رضاقت علی اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل سپیشل پولیس ٹیم تشکیل دی ۔ ٹیم نے ماڈرن تکنیکی بنیادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شب روز محنت کر کے اس وارادت میں ملوث 2ملزموں دل مراد عرف زاہد اور ارشاد بی بی عرف جٹی کو گرفتار کر لیااور ان کے قبضہ سے واردات میں استعمال ہونیوالا آلہ قتل ٹوکہ بھی برآمد کر لیا۔دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ ریٹائرڈ میجر منیر احمد کے پاس بطور ڈرائیور کام کرتا تھا۔ جس نے مقتول میجر منیر احمد سے کچھ عرصہ قبل 14لاکھ روپے ادھار لیے تھے اورجب میجر منیر احمدنے مجھ سے رقم کی واپسی کا تقاضہ کیا تو ان سے تلخ کلامی ہوگئی جس پر طیش میں آکر میں اور ساتھی دلشاد بی بی عرف جٹی نے تیز دھارٹوکے کی مدد سے اس کا گلہ کاٹ دیااورگھر سے 10لاکھ روپے نقدی،رولیکس گھڑی اور ضروری کاغذات لے کر فرار ہو گئے تھے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبشر میکن نے میجر(ر) منیر احمد کے قاتل کو گرفتار کرنے پرانچارج ہومی سائیڈ رضاقت علی SIکوتعریفی سرٹیفکیٹ کا اعلان کیا ہے۔  انویسٹی گیشن پولیس ہومی سائیڈ یونٹ کاہنہ نے چند ماہ قبل میجر(ر) منیر احمدکوقتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے آلہ قتل اور نقدی برآمد کرلی ہے۔ چند ماہ قبل میجر (ر)منیر احمد کو نامعلوم ملزمان نے قتل کر دیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ نشتر کالونی میں درج ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…