پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

امریکہ اور پاکستان میں ،امریکی کینیڈین خاندان کی بازیابی کے دوران پکڑے جانیوالے شخص پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا،پاکستان کا صاف انکار،نیویارک ٹائمز کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی حکومت نے پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد کی رقم روکنے پر غور شروع کردیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ انتہائی سختی کے ساتھ پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہی ہے۔ اخبار کے مطابق رواں سال اکتوبر میں پاکستانی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے عسکری پسندوں کی قید میں موجود کینیڈین شہری جوشوا بوائل اور اس

کی امریکی بیوی کیٹلان کولمین کو بچوں سمیت بازیاب کرایا تھا۔ اس امریکی کینیڈین خاندان کی بازیابی کے دوران ایک اغواکار بھی پکڑا گیا تھا جس کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔امریکہ کا خیال ہے کہ گرفتار اغوا کار کے پاس طالبان کی قید میں موجود ایک اور امریکی مغوی کیون کنگ کے بارے میں بھی معلومات ہوسکتی ہیں۔ امریکی حکام نے پاکستان میں گرفتار اس اغوا کار تک رسائی مانگی لیکن پاکستانی حکام نے منع کردیا، جس پر مایوس ہوکر ٹرمپ انتظامیہ نے 255 ملین ڈالر کی قسط روکنے پر غور شروع کردیا ہے جس کی ادائیگی ادائیگی پہلے ہی التوا کا شکار ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام گرفتار اغواکار سے کیون کنگ کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکی ہوئی ہے ٗ اس امداد کو غیرملکی فوجی معاونت کہا جاتا ہے جس کے نہ ملنے سے پاکستان کیلئے عسکری سامان کی خریداری مشکل ہوجائیگی اس حوالے سے امداد جاری کرنے سے متعلق امریکی اعلیٰ حکام کا رواں ماہ اجلاس ہوا تاہم کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ٗآئندہ چند ہفتوں میں امداد جاری کرنے یا منسوخ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے ہاتھوں ایک اغوا کار کی گرفتاری کا کیسے علم ہوا تاہم ذرائع نے بتایا کہ ایک امریکی ڈرون یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشن کی

نگرانی کررہا تھا۔ امریکی یونی ورسٹی کے پروفیسر کیون کنگ اور آسٹریلوی شہری ٹموتھی کو 2016 میں اغوا کیا گیا تھا۔ دونوں کے زندہ لیکن بیمار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغانستان میں ایک اور امریکی پال اووربائی بھی 2014 سے لاپتا ہے جو حقانی نیٹ ورک کے لیڈر کا انٹرویو کرنے افغانستان گیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اگست سے کشیدہ ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے سے متعلق نئی پالیسی میں پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…