جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل آباد،پنچایت کے ارکان کی جانب سے پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی سے ریپ ،لڑکی کے ماں باپ نے ہی اسے درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑا، لرزہ خیزانکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

فیصل آباد (این این آئی) فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالا میں پسند کی شادی کرنے پر مبینہ ریپ کا شکار بننے والی لڑکی کے مقدمے میں پنچایت کے تینوں ارکان کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔جمعہ کو پولیس کی جانب سے تینوں ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ محمد عمر کی عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ متاثرہ لڑکی کو بھی دارالامان سے عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت میں پیشی کے دوران حالات کشیدہ رہے اور دونوں فریقین کے درمیان کمرہ عدالت کے باہر تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی

موجود رہی۔متاثرہ لڑکی کے سسر نے درخواست جمع کرائی تھی کہ لڑکی نے 10 اکتوبر کو اپنی مرضی سے میرے بیٹے سے شادی کی تھی لیکن یہ شادی لڑکی کے گھر والوں کو منظور نہ تھی اس لئے وہ معاملے کو گاؤں کی پنچایت کے پاس چلے گئے اور لڑکی کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اپنی بہو کو اس لئے پنچایت کے حوالے کیا تھا کیونکہ والد کی جانب سے باقاعدہ رخصتی کی تقریب کے بعد واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم پنچایت کے تین ارکان لڑکی کو اپنے ڈیرے پر لے گئے اور وہاں زیادتی کی اور لڑکی کو چیخنے یا بھاگنے کی صورت میں جان سے مارنے دینے کی دھمکی دی۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی 12 دسمبر کو کسی صورت وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئی اور شوہر کے گھر پہنچی اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے ان کے گھر والوں کو دھمکیاں دی گئیں اور متاثرہ لڑکی کے دیور کو جان سے مارنے کی غرض سے 13 دسمبر کو مختصر وقت کیلئے اغوا بھی کیا گیا تھا، جس کی ایف آئی آر بھی درج کرادی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…