جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی فوج بھارتی زیر قبضہ علاقے میں گھس گئی،بھارتی میڈیا دیوانہ ہوگیا،سنگین الزامات عائد، پاکستان کا دوٹوک جواب،بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ترجمان دفتر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا اینڈ سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے احتجاجی مراسلہ بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو تھمایا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے مراسلے میں کہا گیا کہ ایل او سی پر رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فورسز کی جانب سے

بلااشتعال فائرنگ کر کے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوئے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کی جانب سے پاکستانی فورسز کا ایل او سی عبور کرنے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ فوجی مبصرگروپ کو اپنا کردار ادا کرنے دے اور رکھ چکری سیکٹر سمیت سیز فائر کے خلاف ورزی کے دیگر واقعات کی تحقیقات کی جائے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو آئی ای ڈیز لگانے کا موقع ملا، لہذا بھارت 2003 کے سیز فائر معاہدے کا احترام کرے۔خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تاہم رواں برس بھارت کی جانب سے اب تک 1300 سے زائد مرتبہ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول کی خلاف وزری کی جاچکی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔گذشتہ ماہ بھی چری کوٹ سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے خاتون کی شہادت پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…