جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

شہباز ، رانا ثنا ء مستعفی ہوں،عدلیہ مخالف بیان بازی پر نواز شریف معافی مانگیں،وکلاء پھر بپھر گئے

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہورہائیکورٹ بار نے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنااللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ مخالف بیان بازی پر نواز شریف کو لیگل نوٹس بھجوائیں گے ، سات روز میں مستعفی ہونے اور عدلیہ سے معافی مانگنے کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وکلاء کنونشن بلا کر آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کیا جائے گا،نواز شریف عدلیہ کے خلاف باہر نکلیں ہم نواز شریف کے خلاف باہر نکلیں گے،

پاکستان میں کالے کوٹ والے کبھی عدلیہ پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار بار کے صدر ذوالفقار چوہدری اور سیکرٹر ی عامر سعید نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ژنااللہ پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے اب ان کا عہدے ہر رہنے کا کوئی جواز نہیں ۔سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو بھی اسی لیے تعینات کیا گیا تاکہ ماڈل ٹاؤن میں قتل و غارت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے بعد سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی نے عدلیہ مخالف مہم شروع کر رکھی ہے،عدلیہ پر حملہ پوری قوم پر حملہ ہے ،اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آئے تو عدلیہ اچھی اگر خلاف آئے تو اسے متنازعہ بنا تے ہیں۔عدلیہ مخالف بیان بازی پر ہائیکورٹ بار سابق وزیراعظم کو لیگل نوٹس بھجوا رہی ہے کہ وہ سات دن میں اپنے بیانات پر عدلیہ سے معافی مانگیں ۔ اگر استعفوں کا مطالبہ اور عدلیہ سے معافی نہ مانگی گئی تو وکلا ء کنونش بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف عدلیہ کے خلاف نکلیں ہم نواز شریف کے خلاف نکلیں گے۔وکلاء سپریم کورٹ اور قانون کی بالادستی کے لیے کھڑے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے وضاحتیں نہیں دیں ،چیف جسٹس کو وضاحتوں کی ضرورت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ تنازعات میں رجسٹرار کلیدی کردار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…