بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

چینی بھکاریوں نے اسمارٹ فون کے ذریعے خیرات وصول کرنا شروع کر دی

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی سڑکوں پر بھکاری اسمارٹ فون کے ذریعے خیرات وصول کر رہے ہیں اور جلدی میں بھاگتے دوڑتے لوگ انہیں بھیک بھی دے رہے ہیں۔ چینی صوبے شیندوگ کے شہر جینان میں موبائل والے بھکاریوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

یہ بھکاری اپنے کاسے کے سامنے کیو آر کوڈ لگائے بیٹھے ہیں تاکہ آپ اسے اسکین کر کے پیسوں کی لین دین کیلئے استعمال ہونے والی ایپ (علی پے، وی چیٹ والٹ) یا دیگر موبائل پلیٹ فارم سے انہیں رقم دے سکیں۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کی بڑی تعداد کے پاس خود اپنے اسمارٹ فون بھی موجود ہیں۔چینی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ ذہنی طور پر معذور ایک بھکاری سے جب پوچھا گیا کہ اس نے کیو آر کوڈ کیسے بنایا تو معلوم ہوا کہ اس کے خاندان نے اس کیلئے تیار کیا ہے لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق کیو آر کوڈنگ کے ذریعے آپ کی معلومات چین کے مختلف اداروں کو بھیجی جا رہی ہیں کیونکہ بھکاری انہی کمپنیوں سے اپنی کمائی ہوئی رقم کیش کراتے ہیں۔اس طرح صارفین کا بہت وسیع ڈیٹا وی چیٹ پروفائلز (چین کے مشہور سوشل میڈیا نیٹ ورک) کی صورت میں کمپنیوں کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے جسے بعد میں اشتہاروں اور اسپیم پیغامات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر آپ بھکاری کو کچھ نہیں دیتے لیکن کیو آر کوڈ اسکین کر لیتے ہیں تو اس کے بھی انہیں پاکستانی 10 سےبیس    روپے مل جاتے ہیں اور اگر یہ بھکاری ہفتے میں 45 گھنٹے تک بھیک مانگیں تو اس سے ماہانہ 70 ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے جو چین میں ایک ہنرمند مزدور کی کم درجے کی تنخواہ کے برابر ہے۔اگرچہ بعض لوگوں کیلئے یہ ایک عجیب بات ہو گی لیکن چین بہت تیزی سے بنا نقدی کی معیشت کی جانب بڑھ رہا

ہے جہاں کیو آر کوڈز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے خواہ تحفہ خریدنا ہو یا پھر ہوٹل میں ویٹر کو ٹپ دینی ہو امریکا کے مقابلے میں چین میں موبائل ادائیگیوں کا حجم 50 گنا سے زائد بڑھ چکا ہے اور صرف 2016 میں چین میں موبائل فون سے 112 ارب ڈالر کی ریکارڈ لین دین کی گئی تھی۔ اب چین کی معیشت کو کوڈ اکانومی کا نام دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…