پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

سعودی عوام کیلئے بجلی کا نیا نرخ نامہ تیار،نئے سال کے آغاز پر نافذ،قیمتوں کا تعین بھی کردیاگیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

ریاض (سی پی پی ) سعودی بجلی بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ نیا نرخنامہ تیار کرلیاگیا ہے جو کہ یکم جنوری 2018 سے نافذ ہوگا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئے نرخنامے میں بجلی کے صارفین کی زمرہ بندی کی گئی ہے، مکانات، تجارتی مراکز،

دکانوں، کھیتی باڑی، فلاحی انجمنوں و اداروں، نجی صحت اداروں ، نجی اسکولوں ،کالجوں، فیکٹریوں، کارخانوں اور سرکاری اداروں کے لئے الگ الگ نرخ مقرر کئے گئے ہیں۔گھریلو صارفین پر 1 سے 6ہزار کلو واٹ بجلی استعمال کرنے پر فی کلو واٹ 18ہللہ اور 6ہزار سے زیادہ استعمال پر 30ہللہ وصول کئے جائیں گے۔ تجارتی استعمال پر ایک تا 6ہزار کلو واٹ پر 20ہللہ، 6ہزار سے زیادہ پر 30ہللہ ہونگے۔ کھیتی باڑی، فلاحی انجمنوں و اداروں اور ایسے تمام مراکز سے جو اس کے دائرے میں آتے ہیں ایک تا 6ہزار کلو واٹ پر 16ہللہ اور 6 ہزار سے زیادہ پر 20ہللہ وصول کئے جائیں گے۔نجی صحت اداروں ، اسکولوں ، معہد اور موسسہ جات سے فی کلو واٹ 21ہللہ لئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ سرکاری اور صنعتی استعمال کے نرخنامے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ صنعتی استعمال پر 18ہللہ فی کلو واٹ وصول کیا جائیگا جبکہ سرکاری اداروں سے 32ہللہ لئے جائیں گے۔بجلی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ چارٹ کے مطابق مہینے میں 1 ہزار کلو واٹ بجلی استعمال کرنے پر اب تک 50ریال بل وصول کیا جارہا تھا اب 180ریال لئے جائیں گے۔اسی طرح 2ہزار کلو واٹ استعمال پر100ریال کے بجائے 360،3ہزار کلو واٹ خرچ کرنے پر 200ریال کے بجائے 540ریال وصول کئے جائیں گے جبکہ 4ہزار خرچ کرنے پر300کے بجائے 720ریال، 5ہزار کلو واٹ پر 500کے بجائے 900، 6ہزار خرچ کرنے پر

700کے بجائے 1080 ریال، 7ہزار کلو واٹ استعمال پر ایک ہزار کے بجائے 1380، 8ہزار کلو واٹ استعمال پر 1300کے بجائے 1680ریال، 9ہزار کے استعمال پر 1600کے بجائے 1980 اور 10ہزار کلو واٹ استعمال کرنے پر 1900ریال کے بجائے 2280ریال کا بل آئیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…