اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں فرانسیسی صدرنے فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کر دیا،صیہونی سربراہ اپنا سا منہ لیکر رہ گیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

پیرس(این این آئی)فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو کرتے ہوئے ان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم

کرنے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے اور اس کو مسترد کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ ایلزے محل پیرس میں نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انھوں نے نیتن یاہو کو مخاطب ہوکر کہاکہ فلسطینیوں کے ساتھ معاملہ کاری میں حوصلہ دکھائیں اور خیر سگالی کا ماحول پیدا کریں جس سے امن عمل کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ میں نے وزیراعظم پر زوردیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ معاملے میں حوصلہ دکھائیں تاکہ ہم موجودہ بند گلی سے نکل سکیں۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ انھوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں پہلے سے تیار شدہ بیان پڑھ کر سنایا اور اس کا آغاز اسرائیل کے خلاف گذشتہ چند گھنٹوں اور دنوں کے دوران میں حملوں کی مذمت سے کیا۔بیان کے مطابق یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد کیے گئے ہیں۔فرانسیسی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ بدھ کو القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے فوری بعد ایک بیان جاری کیا تھا اور اس کو ایک بد قسمتی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیرس اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتا ہے۔انھوں نے کسی بھی قیمت پر تشد د سے گریز پر زوردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…