ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صدر مملکت ممنون حسین نے حکومت کو انتباہ کردیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ایک ہی طرح کے امراض کا بار بار پھیلنا قابل تشویش ہے، طبی ماہرین ان علاقوں میں حفظان صحت،معمولی امراض کے علاج اور زچہ و بچہ کے مسائل سے نمٹنے کے آسان طریقوں کو فروغ دے کر ان مسائل پرپر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ڈاکٹروں میں ہڑتال کلچر کا فروغ مناسب نہیں ،ڈاکٹر اس سے گریز کریں کیوں کہ ان انسانیت کی خدمت کے لیے تعلیم دی گئی ہے۔

صدر مملکت نے یہ بات کراچی میں جناح سندھ میڈکل یونیوسورسٹی کے پہلے کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر یونیوسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر محمد طارق رفیع۔ڈاکٹر لبنیٰ بیگ اور ڈاکٹر صغریٰ پروین نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کامیاب طلبہ میں اسناد اور میڈل بھی تقسیم کیے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان آج ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے جس کے ایک طرف ماضی کی شاندار کامیابیاں اور مسائل اور دوسری طرف ایسے عظیم الشان امکانات ہیں جو تاریخ کا دھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔قومی زندگی کے اس مرحلے پر نوجوان ہی ہیں جو ہمارے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وطنِ عزیزمیں دیگر طبی اداروں کی تیز رفتار ترقی سے قوم کو امید ہو چلی ہے کہ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان طبی مسائل کا حل اپنے مقامی ماحول کے مطابق ڈھونڈنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے یہ اطلاع باعثِ اطمینان ہے کہ وطنِ عزیز میں انتہائی مختصر عرصہ میں طبی تعلیم کے اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام تحقیق کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان تاریخ کا دھارا موڑنے والے امکانات کے دھانے پر کھڑا ہے، یہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے سخت محنت کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…