اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ کا ایک فیصلہ امریکہ کو پوری دنیا میںرسواکر گیا امریکہ کی دنیا سے حاکمیت کا خاتمہ، برطانیہ سمیت یورپی ممالک اٹھ کھڑے ہوئے، عالم اسلام میں بھی شدید غم وغصہ

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں یورپی ممالک نے بیت المقدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف قرار دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سویڈن کے سفیروں نے امریکی فیصلے کو ‘خطے کے

امن کے لیے غیرمفید قرار دیا۔امریکا کے بیت المقدس کے حوالے سے فیصلے پر 8 ممالک کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں پانچ یورپی ممالک نے فیصلے کی مخالفت کرے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کا یہ قدم ‘اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق نہیں ہے اور غیر مفید ہے۔اجلاس میں سفیروں کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ چلا ہوا کارتوس نظر آتا ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں کیا توقعات ہیں کچھ نہیں تاہم ایک سفیر نے کہا کہ یہاں پر امریکا کی ‘تنہائی نظر آرہی ہے۔مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے کوارڈینیٹر نیکولے ملادینوف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا فیصلہ اور ٹرمپ کا یہ قدم فلسطینیوں اور دیگر کے غصے کو آگ لگا سکتا ہے۔دوسری جانب فلسطینوں اور حماس کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جھڑپیں پورے دن جاری رہیں۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں برطانیہ کے سفیرمیتھیو کرافٹ نے کہا کہ برطانیہ مکمل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس (یروشلم) اور سفارت خانے کی منتقلی کے اس قدم سے اختلاف کرتا ہے۔رے کرافٹ نے کہا کہ ‘یہ فیصلے خطے میں امن عمل کے لیے مفید نہیں ہیں۔انھوں نے ٹرمپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے داہئیوں سے نظر انداز کیے گئے اسرائیل-فلسطین امن معاہدے کی تفصیلات پر

پورا اترے۔سلامتی کونسل کے اجلاس امریکی سفیر نکی ہیلے نے ٹرمپ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا امن عمل کے لیے پرعزم ہے اور اگر اسرائیل اور فلسطین دونوں ریاستوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ہیلی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے حقیقت کا اعتراف کیا ہے کیونکہ اسرائیل کی حکومت، پارلیمنٹ بھی یروشلم میں موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے فیصلے

میں زور دیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی شہر کی سرحد کے حوالے سے جو فیصلہ کریں گے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے مقدس شہر ہے۔امریکی سفیر نے کہا کہ ‘میں سیشن کے دوران اراکین کے بیانات میں تشویش کو سمجھتی ہوں اور تبدیلی مشکل ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا

دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس عمل کو امن کی جانب نیا قدم قرار دیا تھا۔بعدازاں پاکستان، ترکی، ایران، اردن سمیت مسلمان ممالک کے علاوہ دنیا بھر سے ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت میں آواز اٹھائی گئی تھی اور اس فیصلے کو مسترد کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…