اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

اورنج لائن ٹرین منصوبہ،سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد شہبازشریف آج صبح سویرے کہاں پہنچ گئے،منظر دیکھ کر سب حیران

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(سی پی پی ) وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے ہفتہ کی علی الصبح لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا بغیر پروٹوکول دورہ کیا۔ انہوں نے سول، مکینیکل اور الیکٹریکل کاموں میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور منصوبے کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ بھی کیا۔شہبازشریف نے جین مندر کے قریب انڈر

گرانڈ سٹیشن کا بھی معائنہ کیا جہاں وزیراعلی کو منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر شہباز شریف نے منصوبے پر کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ کے اس عظیم الشان منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے پوری جان لگادیں، یہ منصوبہ عام آدمی کو باوقار اور عالمی معیار کی سفری سہولتیں فراہم کرے گا۔ وزیر اعلی نے منصوبے میں تاخیر کے حوالے سے کہا کہ تاخیر کا ازالہ محنت، عزم اور جذبے کے ساتھ کریں گے۔ شہبازشریف نے میٹروٹرین منصوبے کے دوران مختلف اسٹیشنز اور جین مندر کے قریب انڈر گرانڈ اسٹیشن کا بھی معائنہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے کے 11 مقامات پر ایک سال 10ماہ تک تعمیراتی کام بند رہا لیکن پنجاب حکومت کا دعوی ہے کہ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر 73.8 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔ قائد اعظم انٹرچینج کے قریب رنگ روڈ کے اوپر سے ٹرین گزارنے کیلئے پل کی تعمیر بھی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ریلوے سٹیشن کے قریب پل کی تعمیر کا 55 فیصد کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔ پیکیج ون کے 13.4 کلومیٹر ٹریک میں سے 5 کلو میٹرتک پٹڑی بچھانے کا کام، تمام 11 بالائے زمین سٹیشنز جبکہ پیکیج ٹو کے 5 سٹیشنز کا گرے اسٹرکچر مکمل کر کے انہیں

الیکٹریکل و مکینیکل ورکس کیلئے چینی کنٹریکٹرز کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ چیف انجینئراسرار سعید کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تقریبا 6 سے 7ماہ میں مکمل ہو جائیگا۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ چین کے تعاون سے پنجاب حکومت نے 25 اکتوبر 2015 کو شروع کیا۔ ابتدائی طور پر 164 ارب روپے کا پراجیکٹ بڑھتا ہوا 260 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ 28 جنوری 2016 کو منصوبے کے خلاف سول سائٹی سمیت دیگر کئی درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا اور پنجاب حکومت کو تاریخی عمارتوں کی 200 فٹ حدوو میں اورنج لائن منصوبے پر کام سے روک دیا، ان تاریخی عمارتوں میں شالا مار باغ، گلابی باغ گیٹ وے، بدو کا آوا، چوبرجی، زیب النسا کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جی پی او، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ، سینٹ اینڈریو چرچ، موج دریا دربار اور مسجد شامل تھیں۔ پنجاب حکومت نے حکم امتناعی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے اورنج ٹرین مکمل کرنیکا گرین سگنل دیدیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…