بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

امریکی سفارتخانے کی منتقلی کا فیصلہ،فرانس سمیت8ممالک نے جرات مندانہ قدم اٹھا لیا ،ٹرمپ بڑی مشکل میں پھنس گئے

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یا رک(آن لائن)فرانس سمیت دنیا کے 8 ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی اعلان مسترد کر تے ہو ئے کل سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ،امریکا کی جانب سے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کے بعد مسلم ممالک سمیت یورپی یونین اور برطانیہ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جب کہ فرانس سمیت 8 ممالک نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

فرانس کی درخواست پر بلائے جانے والے اجلاس کی حمایت برطانیہ، سوئیڈن، اٹلی، مصر، سینیگال، بولیویا اور یوراگوئے نے کی۔یورپی یونین کی جانب سے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے، اسرائیل اور فلسطین دونوں کی خواہشات پوری ہونی چاہییں۔برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام امن عمل میں مددگار نہیں ہوگا۔فرانسیسی صدر ایموئینل میکرون نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کی بالکل حمایت نہیں کرتے۔جرمن چانسلر نے بھی امریکی اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یرو شلم کی حیثیت کا فیصلہ دو ریاستی حل کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔کینیڈا کا کہنا تھا کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل سے کیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ کیسی کریٹری جنرل نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے کی مخالفت کردی اور کہا کہ اس اعلان سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے، دو ریاستی حل کے سوا امن کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔پوپ فرانسس نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی

قراردادوں کا احترام کیا جائے اور مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تنازعات نے دنیا کو پہلے ہی خوفزدہ کر رکھا ہے اس لئے کشیدگی کا نیا عنصر شامل نہ کیا جائے۔دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے جو 13 دسمبر کو ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، سعودی شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا بلا جواز اور غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔سعودی شاہی اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فیصلے سے فلسطینیوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے، امید ہے کہ عالمی برادری کی خواہش دیکھتے ہوئے امریکی انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لے گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…