جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں سی ویو پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت،مرکزی ملزم اورموٹر سائیکل والا دوست نکلے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن )کراچی میں سی ویو پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور مرکزی ملزم خاور برنی نے تفتیشی افسر کے سامنے موٹرسائیکل چلانے والے ڈاکٹر عبدالرحیم سے دوستی کا اعتراف کرلیا۔خاور برنی نے اپنے بیان میں دعوٰی کیا کہ مرسیڈیز کے ڈرائیور پر اسلحہ اس نے نہیں بلکہ ڈاکٹر رحیم کے سیکیورٹی گارڈ نے رکھا تھا۔خیال رہے کہ اس سے قبل خاور برنی نے موٹرسائیکل سوار رحیم سے

لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے نہیں جانتا تاہم اب نئی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جس میں مقتول ظافرکی بے قابو گاڑی کی ٹکر سے رحیم کی موٹرسائیکل کو گرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ قتل کے واقعے سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ظافر اورموٹرسائیکل سوار ڈاکٹر رحیم کو دیکھا جاسکتا ہے، ظافر سڑک کنارے گاڑی لانے کی کوشش کرتا ہے تو ڈاکٹر عبدالرحیم کو ٹکر لگ جاتی ہے لیکن ظافر رکنے کے بجائے وہاں سے نکل جانے کی کوشش کرتا ہے۔خیال رہے کہ 3 دسمبر کو ظافر اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا کہ اْس کی کار ساتھ چلنے والی ہیوی بائیک سے ٹکرا گئی، بائیک سوار کو معمولی چوٹیں آئیں مگر پیچھے موجود دو گاڑیوں میں سوار لڑکوں نے ظافر کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔فائرنگ سے ظافر موقع پر جاں بحق جبکہ اس کا دوست زید زخمی ہوگیا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزم خاور برنی کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے سے گرفتار کرلیا تھا جس نے فائرنگ کرنے کا اعتراف تو کیا تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ گاڑی روکنے کے لیے ٹائر پر فائرنگ کرنا چاہتا تھا لیکن غلطی سے گولیاں گاڑی کے اندر بیٹھے لڑکوں کو جا لگیں۔اس واقعے میں ہلاک ہونے والے نوجوان ظافر کی تدفین گزشتہ روز ڈیفنس کے قبرستان کردی گئی ہے جبکہ واردات کا مقدمہ مقتول کے والد فہیم کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے ایک اور ملزم دانش کی تلاش شروع کردی گئی ہے جبکہ خاور کے قبضے سے ملنے والے پستول کی فارنزک کرائی جارہی ہے اور خاور کی دو گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔اس حوالے سے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ ملزمان چاہے جتنے ہی بااثر کیوں نہ ہو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…