بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

جو کرنا تھا کرلیا،اب آپ کا نمبر ہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان مہاجرین کی واپسی سمیت امریکہ سے تین بڑے مطالبے کردیئے

datetime 4  دسمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر دفاع سے بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعما ل کرنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ اس حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور ہونے چاہئیں ، پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کیا ، عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر امن کیلئے پرعزم رہیں گے ، پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا ہے،

افغان مہاجرین کی باعزت اور جلد واپسی ہونی چاہئے ۔ پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے یہاں جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں خصوصی طور پر افغانستان سمیت خطے کی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے خطے میں امن کیلئے مثبت تسلسل کی جاری کوششوں سمیت امریکہ کے پاکستان کیساتھ تاریخی تعلقات کا اعتراف کیا کہ امریکہ کا تعاون قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے زیادہ کیا لیکن وہ عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر امن کیلئے پرعزم رہے گا ۔انہوں نے خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور بھارت کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال، افغان مہاجرین کی باعزت اور جلد واپسی کی ضرورت اور سرحد پار افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی پر اپنے تحفظات کو اجاگر کیا اور کہاکہ افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی ہونی چاہئے اور بھارت کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان کے تحفظات دور ہونے چاہئیں، پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات چاہتاہے جبکہ ملاقات کے دوران جیمز میٹس نے پاکستان کی مسلح افواج اوردہشت گردوں کے خلاف ان کے

موثر آپریشنز پر اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اس کی قدر کرتاہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں امریکی وزیر دفاع کا کہناتھا کہ افغانستان کی طرف سے کہاجاتاہے کہ چند عناصر افغانستان میں اپنا دہشت گردانہ ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے پاکستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں ۔انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ امریکہ پاکستان کے جائز تحفظات دور کرنے کیلئے اپنا کردارادا کرنے کو تیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد مطالبات کرنا نہیں تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اکٹھے ملکر مسئلے کے حل کیلئے مشترکہ بنیادیں تلاش کی جائیں اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کا م کرنا ہوگا ،

مطالبات کی بجائے مل کرکام کرنے کی راہیں ہموار کی جائیں ۔ آرمی چیف نے امریکی وزیر دفاع کی مسائل کے حوالے سے ادراک کو سراہا اور کہا کہ پاکستان امریکہ سے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ، ہم نے پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا ہے اب افغان مہاجرین کیلئے پاکستان کی مہمان نوازی سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسند اگر ہمارے افغان بھائیوں کو نقصان پہنچاتے ہوں تو ان امکانات کو دیکھنے کیلئے تیار ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں نے ایک دوسرے کے تحفظات پر مخصوص اور مسلسل اقدامات پرکام کرنے پر اتفاق کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…