جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ختم نبوتؐ کے حلف نامہ میں ترمیم کے حوالے سے شہباز شریف کا مطالبہ مان لیا جاتا تو حالات کشیدہ نہ ہوتے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(نیوز ڈیسک)ختم نبوتﷺ کے حلف نامہ میں ترمیم کا انکشاف ہوتے ہی سیاسی اور عوامی حلقے میں حکومت پر شدید ترین تنقید کی زد میںآئی مگر افسوس حکومت نے اِس اقدامات سے نہ تو لا تعلقی کا اظہار کیا نہ ہی فوری طور پر ترمیم کو واپس لیا بلکہ پہلے کلیریکل غلطی قرار دے کر جان چھڑا نے کی کوشش کی گئی،جوں جوں معاملہ تعطل کا شکار رہا عوامی غم و غصے میں شدت بڑھتی چلی گئی۔ایک رائے کے مطابق ترمیم کی

واپسی بھی عوامی دباؤ میں لی گئی یہاں لمحہ فکریہ کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے مطالبہ کیا تھا کہ ختم نبوتﷺ کے حلف میں تبدیلی کرنے والے وزیر کو فارغ کیا جائے جس پر حکومت وقت نے سنجیدگی سے غور نہ کیا تو یہ مطالبہ لے کر تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ اپنی اتحادی مذہبی جماعتوں کے ساتھ سٹرکوں پر آگئی، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا موقف تھا کہ وفاقی وزیر قانون نے عقیدہ ختم نبوت والی شق میں ترمیم کر کے مسلم لیگ ن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے لہذا انہیں وفاقی کابینہ سے فارغ کر دینا چاہیے، اگر بروقت وزیراعلیٰ پنجاب کے مطالبے کو وفاقی حکومت عمل کر لیتی تو پاکستان کو سنگین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یہ بات مصدقہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر جب بھی مشکل وقت آیا، شہبازشریف نے ایک قدم آگے بڑھ کر اِسے سہارا دیا اور حکومت کو اچھے،موثر مشوروں سے نوازا۔ جبکہ دوسری جانب بلند وبانگ نعرے لگانے والے دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے خاموشی کو ہی غنیمت جانا۔ حسب روایت کچھ ایسی ہی منظر کشی گزشتہ چند دنوں میں دیکھنے کو ملی،ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں ترمیم کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے والوں اور حکومت میں مذاکرات ناکامی کی طرف بڑھ رہے تھے اور مسلم لیگی رہنما ؤں جن کے دعوؤں، وعدوں اور بلند عزائم کی خبریں و پیغامات دن بھر ٹی وی ٹاک شو میں،

عوامی رابطہ کی سماجی ویب سائیٹ کی زینت بنتے تھے منظر سے بالکل غائب رہے۔معاملے کو سدھرانے کیلئے نہ مریم کا ٹوئیٹ آیا، نہ دانیال، طلال چوہدری کا بیان اور وزیرداخلہ بھی معاملے کو صیح طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہے۔ ایسی صورتحال میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی مخلصانہ،پُرخلوص کاوشیں ایک بار پھر قابل ستائش رہیں کہ اُنہوں نے وزیرقانوں زاہد حامد کو اپنی وزارت سے مستعفی ہونے پر قائل کر لیااور یہی وہ اہم پیش رفت تھی جس سے اسلام آباد سمیت ملک بھر جلاؤ،گھیراؤ، پتھراؤ جیسی صورتحال کے شکنجے سے آزاد ہوگیا اور معاملہ مفاہمت کی جانب بڑھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…