جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کی خاطر قانون کو بدلا جا سکتا ہے توحکومت ختم نبوتؐ کی خاطر ایک وزیر کی قربانی کیوں نہیں دے سکتی؟ ایشو قادیانیوں کا نہیں بلکہ معاملہ کچھ اور ہے، سابق وفاقی وزیر کا حیران کن انکشاف

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ڈونگہ بونگہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہ ہے کہ نواز شریف کی خاطر قانون کو بدلا جاسکتا ہے وزرا ء کی قربانیاں دی جاسکتی ہیں تو ختم نبوت کی خاطر ایک وزیر کی قربانی کیوں نہیں دی جا سکتی۔ اپنے ایک بیان میں حامد سعید کاظمی نے کہاکہ

معمولات زندگی کو مشکل بنانا اور راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات کے منافی ہیں یہ باتیں گورنمنٹ کو اب یاد آرہی ہیں جب انھوں نے ختم نبوت کے قانون میں نقب لگائی تب اللہ اور رسول ؐ کی تعلیمات کو کیونکر بھول گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اگر غلطی کی ہے تو اس کے اثرات کے لیے بھی تیار رہے ، نوازشریف کو بچانے کی خاطر قوانین میں ترامیم بھی ہو جاتی ہیں اور وزرا کی قربانیاں بھی دے دی جاتی ہیں تو ختم نبوت کی خاطر ایک وزیرکے استعفے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کا ایشو نہیں مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لئے حکومت ڈھونگ رچا رہی ہے آج اگر کسی نااہل شخص کے لئے فیصلہ ہوا تو باقیوں کے لیے سبق ہوگا۔انہوں نے کہاکہ دھرنے میں ڈیڈ لاک ہوا تو حکومت کیلئے طاقت کا استعمال مجبوری بن جائے گی لیکن طاقت کا استعمال انصاف نہیں ہو گا۔ حکومت کی طرف سے کیمپین چلائی جا رہی ہے کہ راستوں کو روکنا اللہ اور رسولؐ کے حکم کے منافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاون میں رانا ثنا اللہ کو قربانی کا بکرا بنایا،ڈان لیکس میں پرویز رشید کی قربانی دی گئی تو ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ایک وزیر کی قربانی سے کیوں راہ فرار اختیار کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…