جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسمبلی کی تحلیل،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے بڑا اعلان کردیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری ہوتی نظر نہیں آرہی کیونکہ وفاق میں حکومت نا م کی کوئی چیز نہیں ہے۔عمران خان کا قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ درست ہے۔تحریک انصاف کسی بھی غیر جمہوری اقدام کا ساتھ نہیں دے گی ۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبے کے حقوق کا پر زور مطالبہ کیا ہے اور اجلاس میں صوبے کے واجبات10 دسمبر تک ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع نوشہرہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہیں موجودہ اسمبلیاں آئینی مدت پوری کرتی نظر نہیں آرہیں اُنہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اکیلے حکومتی کام نمٹار ہے ہیں دیگر وفاقی وزراء حکومتی کام چھوڑ کر سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خاندان کو احتساب سے بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان جو قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں،وہ بالکل درست اور صحیح ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی تیسری قوت آجائے۔ ہم کسی بھی غیر جمہوری اقدام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کوچاہیے کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کردیں۔احتساب کے رواں عمل کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہاکہ ہمارایہ بھی مطالبہ ہے کہ ملک میں بے رحمانہ احتساب کیا جائے اور سب کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ ٹیکنوکریٹ کی حکومت کے حوالے سے مجھے کوئی معلوم نہیں اورآ ئین میں بھی اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ صوبے کے حقوق سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہوں نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بجلی اور گیس کے خالص منافع سمیت صوبے کے تمام حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعظم کو کہاہے کہ آٹھ ماہ سے ہمیں اپنا حق نہیں مل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے 10 دسمبرتک صوبے کے واجبات ادا کرنے کاوعدہ کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…