جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد دھرنا،مذہبی جماعت کے مظاہرین کے پاس مقابلے کیلئے کیا کچھ موجود ہے؟ حیرت انگیزانکشافات، بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج کو خالی کرانے کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کو انٹرچینج خالی کرنے کا فیصلہ کرلیا میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرنا ختم کرنے کا عدالتی حکم نہ ماننے کا نوٹس لے لیا اور انتظامیہ کو (آج) ہفتہ کی صبح 10 بجے تک فیض آباد انٹرچینج خالی کرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ضلعی انتظامیہ نے دھرنا ختم کرانے کے لیے اختیارات کا استعمال نہیں کیا،

جبکہ انتظامیہ ایف سی اور رینجرز کی مدد بھی لے سکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے پاس ہتھیار ہیں اور انہوں نے پتھر بھی جمع کیے کر رکھے ہیں جس پر عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پر امن طریقے سے یا طاقت کا استعمال کرکے جیسے بھی ہو، فیض آباد کو مظاہرین سے خالی کروائے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے شہر کو سلب کرلیا جائے۔دوسری جانب عدالت کے حکم کے بعد وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ڈی سی اسلام آباد ٗڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز سمیت اے آئی جی اسپیشل برانچ نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے دھرنے کے کو آخری وارننگ دی جائے گی اور انہیں خالی کرنے کا تحریری حکم نامہ بھیجا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ پر امن طریقے سے فیض آباد خالی نہ کیا گیا تو پھر آپریشن کیا جائے گا، انتظامیہ نے آپریشن کیلئے پولیس اور ایف سی کے دستوں کو بھی الرٹ کردیا ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے گذشتہ روز کے حکم کے باوجود وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر ایک مذہبی و سیاسی جماعت کا دھرنا 13 ویں روز بھی جاری رہا جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا اس سے قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مذہبی جماعت کے سربراہ کو دھرنا ختم کرنے کیلئے خط لکھا تھاجس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا توقانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…