جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز یا شہباز شریف،وزیردفاع خرم دستگیر نے واضح اعلان کردیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہاہے کہ سابق صدر صف علی زرداری موقع پرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہے کیونکہ انتخابات میں چند ماہ رہ رگئے ہیں اور اس وقت ہر شخص اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے۔ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ قیادت مریم نواز شریف یا شہباز شریف میں سے جسے بھی مسلم لیگ (ن) کی باگ ڈور دے ہم فیصلہ تسلیم کریں گے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے

ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، ہم جمہوریت کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں ٗہم نے پہلے بھی نواز شریف کا نہیں جمہوریت کا ساتھ دیا تاہم 4 سال کی حکومت میں کوئی جمہوری قدر نہیں اپنائی گئی اورساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ شریف خاندان کا اب سیاست میں کوئی مستقبل نہیں۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہو، ایسا لگتا ہے کہ احتساب کا قانون صرف پیپلز پارٹی کے لیے بنایا گیا، اسے سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بروقت انتخابات کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہے ٗ اگر ہم نے جمہوری نظام میں رکاوٹ ڈالنی ہوتی تو نواز شریف کے نااہل قرار دیئے جانے کے چار دن بعد ہی ہم دوسرا وزیر اعظم نہ لاتے ٗعوام کی جانب سے منتخب حکومت کے طور پر آئین کی عملداری ہماری ذمہ داری ہے اس لیے اگلے انتخابات 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ کیا جمہوریت کی بقاء4 اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر آئی ایس پی آر کو احتیاط سے گفتگو کرنی چاہیے جبکہ حکومتوں کی اچھی یا خراب کارکردگی کا جمہوریت سے تعلق نہیں ہے۔ خرم دستگیر خان نے کہ اکہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات حل ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا،

اس کیلئے ضروری امر یہ ہے کہ مستقل بنیادوں پر ادارے آپس میں بات چیت کریں اور افواج پاکستان کو بھی اس میں شامل رکھیں۔وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ وزارت دفاع مشکل وزارت ہے ٗاس عہدے کو پہلے وزیر اعظم شہید لیاقت علی خان سمیت مختلف اوقات میں ملک کے سربراہان نے اپنے پاس رکھاجبکہ پاکستان میں اس عہدے کی صحیح اہمیت جمہوریت کے تسلسل سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ بہت بھیانک ہے ٗجمہوریت کا محاصرہ ابھی ختم نہیں ہوا اس لیے ہم اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ جمہوریت کی بقاء کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے سال اقتدار منتقل کریں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سیاسی استحکام اقتصادی ترقی سے جڑا ہوا ہے، ہمیں اگر 7 فیصد تک جی ڈی پی گروتھ ریٹ تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے ملک میں سیاسی استحکام بے حد ضروری ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کے کسی گروپ میں نہیں ہوں بلکہ میں اس گروپ میں ہوں کہ ہمیں پاکستان کے آئین کی عملداری قائم رکھنی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…