جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تفتیشی افسر کیا کہتے رہے؟خیبرپختونخوا،سرعام برہنہ کرکے بازاروں میں گھمائی جانیوالی لڑکی کے افسوسناک انکشافات

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ڈیرہ اسماعیل خان (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے کیس میں متاثرہ لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے اس پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا پہلا بیان دلوایامیڈیا رپور ٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے دھمکیاں دیں کہ اگر پولیس کی مرضی کے مطابق بیان نہ دیا تو اس کے بھائی اور رشتے داروں کے خلاف مقدمہ درج کردیں گے۔

لڑکی نے کہا کہ پولیس اسے دھمکیاں دیتی تھی جس کی وجہ سے عدالت میں پہلے درست بیان نہ دے سکی۔متاثرہ لڑکی نے عدالت میں جمع کرائے گئے دوسرے بیان میں بتایا کہ تفتیشی افسر چمن شاہ مجھے کہتا تھا کہ تمہارے کپڑے گلی میں نہیں اتارے گئے بلکہ گھر میں اتارے گئے ہیں اور اس میں ملزم سجاول ملوث نہیں تھا’۔ متاثرہ لڑکی نے بیان میں بتایا کہ تفتیشی افسر چمن شاہ گالیاں نکالتا تھا اور ماں کو مقدمہ چلانے سے منع کرتا تھا اور بولنے نہیں دیتا تھا۔دوسری جانب نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین نے کہا کہ ڈی آئی خان میں لڑکی کی بیحرمتی کے معاملے کی تفتیش آخری مرحلے میں ہے، تمام ملزموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔آئی جی خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پولیس پر کسی قسم کا سیاسی دباؤ نہیں اور وہ مکمل غیر جانبدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث 9 میں سے 8 ملزم گرفتار ہو چکے ہیں اور آخری ملزم بھی جلد پکڑا جائے گا۔خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 27 اکتوبر کو مخالفین نے پانی بھر کر گھر جانے والی 16سالہ لڑکی کو بھرے بازار میں بے لباس کیا اور برہنہ حالت میں اسے گلیوں اور بازاروں میں گھمایا، جس کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاتاہم مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم سجاول کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…