جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور میں پھیلی سموگ سے ہیرے بنائے جا سکتے ہیں سائنسدان کا کامیاب تجربہ، ایسی خبر جس نے سب کو حیرت زدہ کر دیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فضائی آلودگی سے متاثرہ ملکوں میں سموگ اب کوئی نئی بات نہیں رہی، بھارت پاکستان سمیت چین بھی سموگ سے سب سے زیاہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ سموگ ایک طرف تو انسانی صحت اور ماحول کیلئے نقصان دہ ہے وہیں یہ کسی بھی ملک کیلئے کثیر زرمبادلہ کمانے کا بھی ذریعہ ہے۔ نیدر لینڈ سے

تعلق رکھنے والے آرٹسٹ سائنسدان ڈان روسیگارڈ نے چین میں سموگ سے نمٹنے کیلئے 7 میٹر بلند ٹاورز تخلیق کیے ہیں جو فضا میں موجود آلودگی کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں اور اس آلودگی سے ہیرے کے زیورات بناتے ہیں۔ ڈان روسیگارڈ کا کہنا ہے کہ ان ہیرے کے زیورات سے حاصل ہونے والی آمدنی اس پراجیکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے کیلئے استعمال کی جائے گی۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے لاہور کی فضا میں بھی سموگ پھیلنے لگی ہے ، اگر کوئی پاکستانی سائنسدان اس قسم کے آئیڈیا پر کام کرے یا حکومت ڈان روسیگارڈ کے ساتھ مل کر کام کرے تو نہ صرف فضا میں پھیلی آلودگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اس آلودگی سے پیدا ہونے والے ہیروں کے ذریعے زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی اچھا خاصا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں فضائی آلودگی سے بچنے کیلئے دنیا کا سب سے بڑا فلٹر نصب کیا گیا ہے ، یہ انوکھا فلٹر ٹاور ماحول میں پھیلی 75فیصد گردو غبار صاف کر سکتا ہے اور فلٹر کیے گئے کاربن کے ذرات کو ہیروں میں تبدیل کردیتا ہے۔سموگ فری ٹاور نامی فلٹر 30ہزار کیوبک میٹر ہوا کو دھویںاور بیکٹیریا سے پاک کرکے صاف و شفاف ہوا فراہم کرتا ہے۔نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈان روسیگارڈنے 7 میٹر اونچا یہ انوکھا فلٹر ٹاور تیارکیا ہے۔منفرد نوعیت کا یہ فلٹر چین کے مختلف شہروں میں بھی نصب کیا جائے گا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…