جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کا سنگین بحران سرپرآگیا،حکومت نے غلطی تسلیم کرلی،عوام بڑی مشکل کاسامناکرنے کو تیارہوجائیں،افسوسناک انکشافات

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ، پاکستان میں پانی کی قلت میں شدید اضافہ ہو گیا ،قومی اسمبلی میں حکومت نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں پانی کا بحران ستمبر سے شروع ہوا۔ دسمبر تک پانی کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ارسا نے آئندہ دو ماہ میں مزید بحران کی پیش گوئی کر دی، آئندہ دو ماہ تک تمام دریاں کا بہا معمول سے کم ہوگا،آئندہ ربی کے موسم میں پانی کی 20 فیصد قلت کا سامنا ہوگاربیع سیزن کیلئے پانی کی قلت میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے،

پانی کی قلت کے باعث ربیع کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ملک کے چار بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 9 ہزار 6 سو کیوسک کمی ہوئی۔ دریاؤں میں اسوقت پانی کا بہاؤ 48 ہزار 300 کیوسک ہے، تاریخی طور پر پانی کا اوسط بہاؤ 57 ہزار 9 سو کیوسک ہے،جب تک نئے ڈیم تعمیر نہیں ہونگے آبی وسائل کی موجودہ کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے مکانات و تعمیرات سید ساجد مہدی نے اراکین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے آگاہ کیا آئینی اداروں کے ملازمین کو جلد رہائش گاہیں الاٹ کی جائیں گی، اس بابت سمری وزیر اعظم کو ارسال کی گئی ہے اور اس پر بریفنگ بھی دے دی گئی ہے ۔ رکن اسمبلی ایاز سومرو نے سوال کیا کہ کراچی میں فیڈرل لاجز میں ایم این ایز کو کمرے نہیں دئیے جاتے ۔ جس پر پارلیمانی سیکریٹری برائے مکانات و تعمیرات سید ساجد مہدی نے جواب دیا کہ وزارت اس پر ایکشن لے گی ۔وزیر آبی وسائل جاوید علی شاہ نے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ملک بھر میں پانی کا بحران ستمبر سے شروع ہوا۔ دسمبر تک پانی کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ارسا نے آئندہ دو ماہ میں مزید بحران کی پیش گوئی کر دی، آئندہ دو ماہ تک تمام دریاں کا بہا معمول سے کم ہوگا،

آئندہ ربی کے موسم میں پانی کی 20 فیصد قلت کا سامنا ہوگاربیع سیزن کیلئے پانی کی قلت میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے، پانی کی قلت کے باعث ربیع کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ملک کے چار بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 9 ہزار 6 سو کیوسک کمی ہوئی۔ دریاؤں میں اسوقت پانی کا بہاؤ 48 ہزار 300 کیوسک ہے، تاریخی طور پر پانی کا اوسط بہاؤ 57 ہزار 9 سو کیوسک ہے،جب تک نئے ڈیم تعمیر نہیں ہونگے آبی وسائل کی موجودہ کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…