اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پانی کا سنگین بحران سرپرآگیا،حکومت نے غلطی تسلیم کرلی،عوام بڑی مشکل کاسامناکرنے کو تیارہوجائیں،افسوسناک انکشافات

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ، پاکستان میں پانی کی قلت میں شدید اضافہ ہو گیا ،قومی اسمبلی میں حکومت نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں پانی کا بحران ستمبر سے شروع ہوا۔ دسمبر تک پانی کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ارسا نے آئندہ دو ماہ میں مزید بحران کی پیش گوئی کر دی، آئندہ دو ماہ تک تمام دریاں کا بہا معمول سے کم ہوگا،آئندہ ربی کے موسم میں پانی کی 20 فیصد قلت کا سامنا ہوگاربیع سیزن کیلئے پانی کی قلت میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے،

پانی کی قلت کے باعث ربیع کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ملک کے چار بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 9 ہزار 6 سو کیوسک کمی ہوئی۔ دریاؤں میں اسوقت پانی کا بہاؤ 48 ہزار 300 کیوسک ہے، تاریخی طور پر پانی کا اوسط بہاؤ 57 ہزار 9 سو کیوسک ہے،جب تک نئے ڈیم تعمیر نہیں ہونگے آبی وسائل کی موجودہ کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے مکانات و تعمیرات سید ساجد مہدی نے اراکین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے آگاہ کیا آئینی اداروں کے ملازمین کو جلد رہائش گاہیں الاٹ کی جائیں گی، اس بابت سمری وزیر اعظم کو ارسال کی گئی ہے اور اس پر بریفنگ بھی دے دی گئی ہے ۔ رکن اسمبلی ایاز سومرو نے سوال کیا کہ کراچی میں فیڈرل لاجز میں ایم این ایز کو کمرے نہیں دئیے جاتے ۔ جس پر پارلیمانی سیکریٹری برائے مکانات و تعمیرات سید ساجد مہدی نے جواب دیا کہ وزارت اس پر ایکشن لے گی ۔وزیر آبی وسائل جاوید علی شاہ نے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ملک بھر میں پانی کا بحران ستمبر سے شروع ہوا۔ دسمبر تک پانی کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ارسا نے آئندہ دو ماہ میں مزید بحران کی پیش گوئی کر دی، آئندہ دو ماہ تک تمام دریاں کا بہا معمول سے کم ہوگا،

آئندہ ربی کے موسم میں پانی کی 20 فیصد قلت کا سامنا ہوگاربیع سیزن کیلئے پانی کی قلت میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے، پانی کی قلت کے باعث ربیع کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ملک کے چار بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 9 ہزار 6 سو کیوسک کمی ہوئی۔ دریاؤں میں اسوقت پانی کا بہاؤ 48 ہزار 300 کیوسک ہے، تاریخی طور پر پانی کا اوسط بہاؤ 57 ہزار 9 سو کیوسک ہے،جب تک نئے ڈیم تعمیر نہیں ہونگے آبی وسائل کی موجودہ کمی کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…