اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

’’افغانستان پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا‘‘ بھارت کیساتھ مل کرپاکستان کو تاریخ کے سب سے بڑے نقصان سے دوچار کر دیا، تشویشناک صورتحال

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے گوداموں میں 60لاکھ ٹن گندم موجود ہونے کے باوجود افغانستان گندم ایکسپورٹ نہیں ہو سکے گی، افغانستان جیسی پرکشش منڈی بھارت کی جھولی میں جا گری، پاکستان کے گوداموں میں پڑی لاکھوں ٹن گندم خریدنے والا کوئی نہیں رہا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ناقص ایکسپورٹ پالیسی کی وجہ سے افغانستان اب بھارت سے گندم خرید رہا ہے۔ 18لاکھ ٹن سالانہ گندم خریدنے والا ملک افغانستان اب پاکستانی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے جبکہ ہمارے ملک میں گندم کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔ ملک بھر میں محکمہ خوراک کے گوداموں میں لاکھوں ٹن گندم خراب ہو رہی ہے، محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق اس وقت صرف پنجاب میں ہی گوداموں میں 60لاکھ ٹن گندم موجود ہے، دیگر صوبوں اور پاسکو کے گوداموں میں گندم اس کے علاوہ ہے۔ پنجاب حکومت نے ایک ہفتہ قبل گندم کی سرکاری سطح پر فروخت شروع کی لیکن کسی بھی فلور ملز نے تاحال گندم نہیں خریدی کیونکہ اوپن مارکیٹ میں گندم پہلے سے ہی موجود ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے 1300روپے فی من ریٹ ہونے کے باوجود سرکاری گندم فلور ملز تک پہنچنے میں 1350روپے میں پڑتی ہے۔ منڈیوں میں اچھی کوالٹی کی گندم ان دنوں 1270روپے میں دستیاب ہے جس کی رقم کی ادائیگی بھی تین دن بعد کی جاتی ہے۔ محکمہ خوراک سے گندم خریدنے کیلئے رقم تین دن قبل ایڈوانس جمع کروانا پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…