جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جھوٹ پکڑا گیا،حنیف عباسی کا عمران خان کو بڑا سرپرائز

datetime 28  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے نااہلی کیس میں عمران خان کے مؤقف میں تضادات پر مبنی ایک اور متفرق درخواست دائر کردی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نااہلی کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان کے مؤقف میں تضادات پر مبنی متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے پہلے کہا گیا تھا کہ لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد نیازی سروسز بے وقعت ہوگئی تھی

جبکہ نئے دستاویزات کے مطابق 2012 تک نیازی سروسز کے اکاؤنٹس فعال رہے ٗ نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں موجود ایک لاکھ پاؤنڈ ظاہر کرنا لازم تھے اور سپریم کورٹ بھی پاناما کیس میں واضح کرچکی ہے کہ اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہے۔درخواست کے متن میں بتایا گیا کہ پہلے لندن فلیٹ فروخت کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم عمران خان کا اثاثہ تھی اور اکاؤنٹ میں موجود فنڈز استعمال ہونے تک عمران خان کے اثاثہ تھے لیکن وہ اپنا کیس بہتر بنانے کے لئے بینک الفلاح کا اکاؤنٹ سامنے لائے جب کہ بینک الفلاح اور لائیڈ بینک کے اکاؤنٹس 2002 الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کئے گئے۔درخواست میں تحریر ہے کہ عمران خان کی جانب سے پہلے کہا گیا کہ کرایہ دار کے ساتھ قانونی چارہ جوئی بے سود رہی اور اب کہا گیا کہ نیازی سروسز سے 65 ہزار یورو عمران خان کو ملے، نیازی سروسزکا یورو اکاؤنٹ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا اورنئے اکاؤنٹ کی تفصیلات 2007 سے پہلے کبھی سامنے نہیں لائی گئیں جب کہ تفصیلات صرف اس دور کی فراہم کی گئیں جب عمران خان منتخب نمائندے ہی نہیں تھے۔بنی گالہ اراضی سے متعلق درخواست میں بتایا گیا کہ اپنی رہائش گاہ کے لئے ادا کئے گئے 65 لاکھ روپے کو عمران خان نے ٹیکس گوشوارون میں تحفہ ظاہر کیا جبکہ انتخابی گوشواروں میں یہی رقم بطور ایڈوانس ظاہر کی گئی،

بیان حلفی اور جواب میں لندن فلیٹ کی قیمت میں 500 ڈالر کا فرق ہے۔عمران خان کے ترمیم شدہ جواب اور بیان حلفی میں بھی تضاد ہے پہلے کہا گیا عمران خان 1971 سے پاکستان میں رہائش پذیر ہی نہیں تھے پھر کہا گیا کہ انہوں نے 1971 میں ہی پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے کرکٹ کیرئر کا آغاز کیا۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے تمام اقدامات کو ایمانداری پر مبنی نہیں کہا جاسکتا اور وہ الیکشن کمیشن میں اثاثے چھپانے کے مرتکب قرار پائے گئے اس لئے ان کی پیش کردہ نئی دستاویزات کو فوری طور پر مسترد کیا جائے اور عدالت ان کی نااہلی کا حکم جاری کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…