پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج اور سول حکومت میں اختلافات کی تصدیق،آئی ایس پی آر نے فوج کی حکمت عملی کا باضابطہ اعلان کردیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)ٗجمہوریت کوپاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں ٗملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آ رہی ٗ جو سسٹم چل رہا اسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے میں نے گزشتہ پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اختلاف رائے نہ ہو ٗ سویلین حکومت ہی آرمی چیف کا تقرر کرتی ہے اور تمام فیصلے حاکم وقت نے کرنے ہوتے ہیں،

ملک کی ترقی کیلئے حکومت کا چلنا ضروری ہے اور جمہوریت کوپاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آ رہی ٗ ملک میں جو سسٹم چل رہا اسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔ایک سوال ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستانی سرزمین پر پاکستانی فورسز کے ساتھ کسی بھی دوسری فورس کے جوائنٹ آپریشن کا کوئی تصور نہیں انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتیں جان لیں کہ سیکیورٹی سے متعلق تمام پاکستانی اور ادارے ایک ہیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہر وہ کام کریں گے جو آئین و قانون کے دائرے کے اندر ہے ، ایسا کوئی کام نہیں ہوگا جو آئین و قانون سے بالاتر ہوگا ۔ دریں اثنا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ترجمان پاک فوج کے معیشت سے متعلق بیان پر ردعمل کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ وزیر داخلہ کے بیان پر بطور سپاہی اور پاکستانی مایوسی ہوئی، کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا، کہا گیا ایسا بیان دشمن دیتا ہے، انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ معیشت غیر مستحکم ہے ٗاگر سیکیورٹی اچھی نہیں ہوگی تو معیشت بھی اچھی نہیں ہوگی۔جوکچھ کہا وہ سکیورٹی اور معیشت سے متعلق ہونے والے سیمینار کا خلاصہ تھا اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صرف پاک فوج نے کام کیا ہم سب نے بہت کام کیا ہے ٗکوئی بھی ادارہ اکیلا کام نہیں کرسکتا ،

سیمینار میں سویلین افراد بھی آئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کی معیشت گر گئی ہے ٗ کراچی میں سیمینار میں بہت بڑے بڑے معاشی ماہرین آئے تھے، میں نہیں سمجھتا کہ سوال سیمینار پر ہونا چاہیے بلکہ سوال اس سیمینار کے نتیجے پر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط ملک کیلئے تمام شہریوں کو ذمہ داری سے ٹیکس ادا کرنا چاہیے،

ٹیکس کیلئے جاری کیے گئے نوٹسز پر صرف 39 فیصد ریکوری ہوئی جبکہ سرکاری ملازمین سے 60 فیصد ٹیکس کی وصولی ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ملک کی ترقی کیلئے ہر قسم کا استحکام ضروری ہے، معیشت بہتر ہوگی تو قومی سلامتی سے متعلق فیصلے بھی بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اور پنجاب میں رینجرز کا آپریشن سول حکومت کی منظوری سے شروع ہوا، ریاستی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور پاک فوج ہر ادارے کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…