اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

پاک فوج اور سول حکومت میں اختلافات کی تصدیق،آئی ایس پی آر نے فوج کی حکمت عملی کا باضابطہ اعلان کردیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)ٗجمہوریت کوپاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں ٗملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آ رہی ٗ جو سسٹم چل رہا اسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے میں نے گزشتہ پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اختلاف رائے نہ ہو ٗ سویلین حکومت ہی آرمی چیف کا تقرر کرتی ہے اور تمام فیصلے حاکم وقت نے کرنے ہوتے ہیں،

ملک کی ترقی کیلئے حکومت کا چلنا ضروری ہے اور جمہوریت کوپاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں آ رہی ٗ ملک میں جو سسٹم چل رہا اسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔ایک سوال ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستانی سرزمین پر پاکستانی فورسز کے ساتھ کسی بھی دوسری فورس کے جوائنٹ آپریشن کا کوئی تصور نہیں انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتیں جان لیں کہ سیکیورٹی سے متعلق تمام پاکستانی اور ادارے ایک ہیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہر وہ کام کریں گے جو آئین و قانون کے دائرے کے اندر ہے ، ایسا کوئی کام نہیں ہوگا جو آئین و قانون سے بالاتر ہوگا ۔ دریں اثنا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ترجمان پاک فوج کے معیشت سے متعلق بیان پر ردعمل کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ وزیر داخلہ کے بیان پر بطور سپاہی اور پاکستانی مایوسی ہوئی، کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا، کہا گیا ایسا بیان دشمن دیتا ہے، انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ معیشت غیر مستحکم ہے ٗاگر سیکیورٹی اچھی نہیں ہوگی تو معیشت بھی اچھی نہیں ہوگی۔جوکچھ کہا وہ سکیورٹی اور معیشت سے متعلق ہونے والے سیمینار کا خلاصہ تھا اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صرف پاک فوج نے کام کیا ہم سب نے بہت کام کیا ہے ٗکوئی بھی ادارہ اکیلا کام نہیں کرسکتا ،

سیمینار میں سویلین افراد بھی آئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کی معیشت گر گئی ہے ٗ کراچی میں سیمینار میں بہت بڑے بڑے معاشی ماہرین آئے تھے، میں نہیں سمجھتا کہ سوال سیمینار پر ہونا چاہیے بلکہ سوال اس سیمینار کے نتیجے پر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط ملک کیلئے تمام شہریوں کو ذمہ داری سے ٹیکس ادا کرنا چاہیے،

ٹیکس کیلئے جاری کیے گئے نوٹسز پر صرف 39 فیصد ریکوری ہوئی جبکہ سرکاری ملازمین سے 60 فیصد ٹیکس کی وصولی ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ملک کی ترقی کیلئے ہر قسم کا استحکام ضروری ہے، معیشت بہتر ہوگی تو قومی سلامتی سے متعلق فیصلے بھی بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اور پنجاب میں رینجرز کا آپریشن سول حکومت کی منظوری سے شروع ہوا، ریاستی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور پاک فوج ہر ادارے کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…