ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

’’ہم سب نے اجتماعی گناہ کیا ہے‘‘ مولانا فضل الرحمٰن نے بڑا اعتراف کر لیا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم معمولی غلطی نہیں بلکہ ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے پر کسی ایک مسلمان کی اجارہ داری نہیں ہے، قانون میں ترمیم سنگین غلطی ہے جس کے ذمہ داران کی نشاندہی کر کےانہیں سزا دینی چاہیے۔انہوں

نے کہا کہ ختم نبوت ﷺ کے مسئلے کے بہت سے پوشیدہ پہلو سامنے آرہے ہیں، بل کی دوبارہ بحالی کا فیصلہ کیا تو کچھ پیچیدہ نکات سامنے آئے، اس قسم کے معاملات ایوان میں سیلقے سے طے ہونے چاہئیں۔مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ ختم نبوت ﷺ بل میں ترمیم کرنے کے معاملے کی تحقیق ہونی چاہیے کیونکہ ناموس رسالت کا قانون اقلیتوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا جس کے بعد اعتزاز احسن نے اس بل کی مخالفت کے لیے قرارداد ایوانِ بالا میں پیش کی مگر ایم کیو ایم کے سینیٹر نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد اس ترمیم کو صرف ایک ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔حکومت نے آئین کے انتخابی آرٹیکل 203 میں ترمیمی قرار داد منظور کروائی اور پھر اس پر صدر مملکت نے دستخط کیے جس کے بعد نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا پارٹی صدر تعینات کیا گیا ہے۔انتخابی آرٹیکل میں ترمیم کی منظوری کے بعد شیخ رشید نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ حکومت نے اس قانون کی آڑ میں ختم نبوت کا قانون بھی ختم کردیا جس کے بعد عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا۔حکومت نے پہلے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کی باتوں کو مسترد کیا تاہم اگلے ہی روز امیدوار کے حلف نامے کو اصلی شکل میں بحال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…