ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

آئی بی کی مبینہ لسٹ میں کن لوگوں کے نام ہیں؟جو مکے لڑائی کے بعد یاد آئیں وہ اپنے منہ پر مارنے چاہئیں،مشاہد اللہ کے صبر کا پیمانہ پھر لبریز ہوگیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کے سامنے جو اعترافات کئے ہیں پیپلزپارٹی ان کی فکر کرے۔ بدھ کو سینٹ میں عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پہلی بار دیکھا ہے کہ ایک منظور کردہ قانون پر قرارداد پیش کی گئی ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ اس لئے ہوا ہو کہ قانون منظور ہونے کے بعد لوگوں کی ان کی جماعت کی طرف سے گو شمالی ہوئی ہے،

جو مکے لڑائی کے بعد یاد آئیں وہ اپنے منہ پر مارنے چاہئیں۔ اس طرح کی روایت نہیں پڑنی چاہیے، آج بھٹو کے قانون کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ہے، گھر جا کر سوچیں ضرور کہ کیا کیا ہے، ہم نے اس قانون کو زندہ کیا ہے جو بھٹو نے منظور کیا تھا، آئی بی کی مبینہ لسٹ میں سب حکومتی نام ہیں، جو اس میں ملوث ہے سامنے آ جائے گا، کچھ لوگوں کو ابھی بھی معلوم ہے کہ کون اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ اور ذوالفقار مرزا کے اعترافات سب کے سامنے ہیں، قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ تھے تو وہ لیاری گئے، فریال تالپور ساتھ تھیں، عزیر بلوچ حلف لے کر پی پی پی کے ٹکٹ جاری کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسحق ڈار سے تشدد کر کے ایک بیان لیا گیا تھا، سندھ ہائی کورٹ کے جج کے سامنے بھی 164 کا بیان عزیر بلوچ کا پولیس نے جمع کرایا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ زرداری کے کہنے پر میں نے لوگوں کو قتل کیا اور فریال تالپور کو بھتہ دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی بھٹو کو بھول گئی ہے اور کہتے ہیں فلاں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ اپنی فکر کریں، سپریم کورٹ نے تین پارٹیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے عسکری ونگ ہیں، آج آئی بی کی جعلی لسٹ پر باتیں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے شور شرابے پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ایوان کو مچھلی منڈی بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…