پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

امریکہ میں بھی پرسنالٹی ٹیسٹ کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا رواج

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ بھر میں پرسنالٹی ٹیسٹ کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اس رجحان کی بڑی وجہ انٹرویو اور عام ٹیسٹ کی بنیاد پر درست امیدوار کے انتخاب میں ناکامی ہے۔ اس ٹیسٹ کا رجحان کس قدر بڑھ رہا ہے اس کا اندازہ کیلیفورنیا کی ایک ہوٹل کمپنی کی صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے جسے ان دنوں اپنے کال سینٹر کیلئے اسی فیصد اسامیوں کو پر رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کمپنی میں نوکری کے امیدواروں کی دلچسپی ختم ہوچکی ہے یا پھر یہاں تنخواہوں کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیلی فورنیا اس وقت امریکہ کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں بیروزگاری تاریخ میں پہلی بار اپنی بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی اسامیوں کو پر رکھنے میں ناکامی کی وجہ اسی پرسنالٹی ٹیسٹ کا انعقاد ہے جس کی وجہ سے بہترین امیدوار چھانٹنا تو ممکن ہے تاہم امریکیوں کی بڑی تعداد اس ٹیسٹ کے معیار پر پورا اترنے میں ہی ناکام ہے جس کی وجہ سے اکثریت اس ٹیسٹ کو پاس کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کمپنی سے وابستہ منیجر کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیسٹ کی وجہ سے نوکری کیلئے بہترین امیدوار منتخب کئے جانے والے افراد کی تعداد بے حد کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کمپنی کیلئے امیدواروں میں سے بہترین کا انتخاب کرنا آسان ہے۔ یہ ٹیسٹ آن لائن دیا جاتا ہے۔
نوکریوں کیلئے پرسنالٹی ٹیسٹ کا استعمال امریکہ میں کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب امریکہ بھر میں اس قدر بڑے پیمانے پر کمپنیز کی جانب سے اس ٹیسٹ کو استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے نوکری کیلئے دی جانے والی درخواست کی ایک سافٹ ویئر کی مدد سے جانچ کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں نجی شعبے میں ملازمین فراہم کرنے والی دس بڑی کمپنیوں میں سے آٹھ اسی ٹیسٹ کے سہارے اپنے ملازمین کا انتخاب کررہی ہیں۔ سال2001میں صرف26فیصد امریکی کمپنیز اس ٹیسٹ کا سہارا لیتی تھیں جبکہ2013تک اس ٹیسٹ کو استعمال کرنے والی کمپنیز کی تعدا57 فیصد ہوچکی تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں آنے والی یہ تبدیلی دراصل اس امر کی جانب بھی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی کمپنیز میں ملازمین کے انتخاب کا معاملہ اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے۔
اس ٹیسٹ کی آمد کے حوالے سے اعداد و شمار کے جائزے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب امریکہ میں نوکری پانا بے حد مشکل ہوچکا ہے اور عوام کی بڑی تعداد بیروزگار ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں فی الوقت دستیاب نوکریوں اور بھرتیوں کے بیچ فرق سب سے کم ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس فرق میں پچیس فیصد تک کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ اندازہ قائم کیا جاسکتا ہے کہ اب امریکہ میں نوکری پانے کیلئے محض اچھے ادارے سے پرکشش ڈگری کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسنالٹی ٹیسٹ کو کلیئر کرنے کی تیاری بھی کرنا ہوگی تاکہ خود کو امریکیوں کے مقابلے میں نوکری کیلئے یکساں حقدار ثابت کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…