ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت عالمی منڈی سے پٹرول اور ڈیزل کس قیمت پر خریدتی ہے اور پھر اسے پاکستان میں کس قیمت پر فروخت کیاجاتاہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے عالمی منڈی سے پٹرول اور ڈیزل کی ایک ہی قیمت پر خرید کے باوجود دونوں پٹرولیم مصنوعات کو الگ الگ ریٹ پر فروخت کرنے کیخلاف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ دیا ۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل عالمی مارکیٹ سے 30سے35روپے فی لیٹر کے حساب سے خریدا جاتا ہے مگر ظالمانہ حکومتی ٹیکس اور لیویز کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت خرید اور فروخت میں بہت بڑا فرق ہے،

حکومت ٹیکس کے نظام کی درستگی کیلئے فوری اقدامات کرے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں کمی لا ئے تاکہ عام آدمی کے سر سے ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے۔جمعہ کو قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکانٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران جواب دیتے ہوئے پاکستان سٹیٹ آئل آفشیلز نے بتایا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل عالمی مارکیٹ سے30سے35روپے فی لیٹر خریدا جاتا ہے اور پھر70 اور80 روپئے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمت خرید اور فروخت میں بہت بڑا فرق ہے اور اس کی وجہ ظالمانہ حکومتی ٹیکس اور لیویزہیں۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ تقریبا 70 فی صد عوام جو پٹرول اور ڈیزل استعمال کرتے ہیں ان کا تعلق نچلے طبقے سے ہے اور اس طرح ان کے روزمرہ زندگی پر اضافی بوجھ لادا جارہاہے۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت کو اپنے ٹیکس کے نظام کی درستگی کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں کمی لانی چاہئے تاکہ عام آدمی کے سر سے ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو اپنی بہتر کارکردگی سے ریلیف مہیا کرے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…