جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’جو ہو رہا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے ‘‘

datetime 19  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی مولانا سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف پر الزامات لگے مگر وہ جے آئی ٹی میں بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ، اگر وہ ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو ان کے ترجمانوں کو چیخ چیخ کر دفاع نہ کرنا پڑتا ۔

سرکاری وکلاءبھی سوچ رہے ہیں اوپر جا کر کیا جواب دینا ہے۔نوازشریف گزشتہ روز بھی عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہ میری لڑائی کرپشن کے خلاف ہے ، سب کا احتساب چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان کرپشن سے پاک ملک بن جائے گا ۔ ہمیں امید ہے عدالت سے قوم کو انصاف ملے گا ۔ مولانا سراج الحق نے کہا کہ ریکارڈ ٹیمپرنگ تاریخ کا منفرد واقع ہے اور سرکار خود ٹیمپرنگ کر رہی ہے ۔پاکستان میں حکمران خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔آج شریف خاندان کی باری ہے۔ اسلامی معاشرے میں کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت بھی چاہتی ہے سرکاری وکلاءکے دل میں جو ہے وہ بھی انکے سامنے آجائے تاکہ ان پر الزام نہ آئے کہ بولنے نہیں دیا گیا ۔صدر مملکت نے بھی کہا تھا کہ جو ہو رہا ہے اللہ کی طر ف سے ہو رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…