منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2014 |

سندھ رینجرز نے سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ رینجرز کے کرنل طاہر نے کہا کہ کراچی سینٹرل جیل میں خطرناک قیدی موجود ہیں اس لئے جیل کی سیکیورٹی پر کام ہورہا ہے، حساس اداروں کی رپورٹ پر 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب کراچی سینٹرل جیل سے ملحقہ غوثیہ کالونی کے ایک مکان پر کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران مکان میں ایک سرنگ تیار کی جارہی تھی جس کا مقصد سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانا تھا۔ دہشتگردوں نے یہ مکان 5 ماہ قبل خریدا تھا اورانہوں نے سرنگ کھودنے کی کارروائی مکان کی زیر زمین پانی کی ٹنکی سے شروع کی، اس سرنگ کو انتہائی حساس آلات کی مدد سے تیار کیا جارہا تھا، ملزمان سرنگ سے نکالی گئی مٹی دوسرے علاقے میں پھینک کرآتے تھے۔ ملزمان سرنگ کھود کر جیل میں موجود کنویں تک پہنچنا چاہتے تھے، منصوبے کے مطابق انہیں 55 میٹر سرنگ کھودنا تھی جس میں سے انہوں نے 45 میٹر سرنگ کھود لی تھی، کارروائی کے وقت دہشتگرد اپنے ہدف سے صرف 10 میٹر دور تھے۔

کرنل طاہر کا کہنا تھا کہ مکان پر کارروائی کے وقت حراست میں لئے گئے افراد کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں تھا تاہم دوران حراست ان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں مزید کئی افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے بھاری ہتھیار اور بارودی مواد بھی ملا ہے، اس کے علاوہ اس شخص کو بھی تلاش کیا جارہا ہے جس نے سرکاری اراضی پر گھر تعمیر کرکے اسے فروخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے بارے میں وہ کوئی بات نہیں کرسکتے لیکن ہم نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑدیا ہے۔

کرنل طاہر نے مزید بتایا کہ منظم منصوبے کے تحت جیل توڑنے کی کوشش کی گئی، اس سازش میں کالعدم تنظیموں کے لوگ ملوث ہیں، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دہشت گردوں کو جیل کے اندر سے بھی معاونت حاصل تھی۔ سندھ رینجرز اور قومی سلامتی سے متعلق ادارے مشترکہ طور پر دہشتگردوں سے تفتیش کررہے ہیں جس کی روشنی میں مزید کاروائیاں بھی کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…