جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

لندن کے مسلمان میئر صادق خان امریکی صدر ٹرمپ کے مقابل ڈٹ گئے، کھری کھری سنا دیں

datetime 4  جولائی  2017 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لندن کے مسلمان میئر صادق خان کا کہنا ہے لندن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن اسی طرح یہودیوں کے خلاف اور دیگر جرائم میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ لندن اب بھی دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صادق خان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کے بعد ان کا کام مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ہم حکومت سے مزید وسائل مانگ رہے ہیں، لندن برج اور فنسبری پارک حملوں کے بعد پولیس نے محنت سے کام کیا لیکن اگر ان کے پاس ذرائع ہی نہیں تو ان کا کام مشکل ہو جاتا ہے، تو میرا کام بھی اس وقت بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر حکومت ہمیں وسائل نہیں دے گی تو ہماری مشکلات مزید بڑھیں گی۔تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ برطانوی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں آپ کی مدد نہیں کر رہی؟ اس سوال پر صادق خان کا کہنا تھا کہ دیکھیں صرف مسلمانوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ وسائل کے بغیر ہم دہشت گردی کو کیسے شکست دیں گے؟ان کے بقول ان کا حکومت سے مزید وسائل کا مطالبہ اس لیے ہے تاکہ زیادہ پولیس آفسرز کمیونٹی میں جائیں اور لوگ ان پر اعتماد کریں اور انھیں انٹیلجنس مہیا کریں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی وجوہات میں ایک وجہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کو بھی قرار دیا جاتا ہے اور یہی بات مئیر صادق خان کی اپنی جماعت لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن بھی کہہ چکے ہیں۔

اس سوال پر صادق خان کا کہنا تھا کہ ‘ لندن برج حملہ ہو یا فنسبری پارک مسجد پر حملہ یہ دونوں دہشت گردی کے واقعات تھے، تو ایسے سنگین جرائم کی کوئی وجہ تلاش نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صحیح اسلام سکھائیں اور یہ بھی کہ آپ کے مذہب کی بنیاد پر کوئی آپ سے نفرت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نوجوانوں سے یہ کہے کہ مغرب آپ سے نفرت کرتا ہے،

غیر مسلم آپ سے نفرت کرتے ہیں اور آپ زندگی اور آخرت میں کامیاب ہوں گے اگر آپ دہشت گردی کی جانب آئیں تو یہ سب بکواس ہے، اسلام نہیں ہے۔ تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف اپنے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگائیں بلکہ ماضی سے سبق بھی سیکھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چھ مسلمان ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ اگر شدت پسند دولت اسلامیہ یہ کہتی ہے کہ اسلام اور مغرب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے اور مغرب مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے،

میرے خیال میں یہ بکواس ہے۔ یقیناًہم ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ لندن کا میئر ایک مسلمان ہے، برطانیہ کا کامیاب ترین اولمپئین مو فرح مسلمان ہے۔ان کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ جب یہ کہتے ہیں کہ اسلام اور مغرب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے اور مسلمان امریکہ میں نہیں آ سکتے تو وہ وہی بات کر رہے ہیں جو داعش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا کہہ اور کر رہے ہیں تو وہ داعش کے لیے ان کا کام آسان کر رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…