جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’بادشاہ کا بیٹا ہوں، کوئی ایرا غیرا نہیں‘‘ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کو کیا کچھ کہہ دیا؟

datetime 3  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قطری شہزادے نے پاکستان اور سفارتخانے آنے سے انکار کردیا اور خط کی تصدیق کیلئے پاناما جےآئی ٹی کو تیسری بار دوحہ آنے کی دعوت دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم نے پاناما جے آئی ٹی سے رابطہ کیا اور قطری شہزادے خط کی تصدیق کیلئے پاناما جےآئی ٹی کو تیسری بار دوحہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے پاکستان اور سفارتخانے آنے سے انکار کردیا۔

قطری شہزادے کا کہنا ہے کہ بادشاہ کا بیٹا ہوں!کوئی عام آدمی نہیں۔ شریف خاندان سے مراسم ہیں، تفتیش کرنے والے خود دوحہ آجائیں، میں پاکستان نہیں آؤں گا۔شہزادہ جاسم کا کہنا ہے کہ اپنے خط پر قائم ہوں جے آئی کو تحریر کی تصدیق کرنی ہے تو قطر آجائے۔ذرائع کا کہنا ہے جے آئی ٹی نے قطری شہزادے سے انٹرویو کے لیے پاکستانی سفارتخانہ تجویز کیا تھا تاہم حمادبن جاسم نے سفارت خانہ میں آنے سے معذرت کر لی ہے۔یاد رہے کہ پاناما جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے 19 مئی کو خط لکھ کر 25 مئی کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم شہزادہ حماد بن جاسم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی۔خیال رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو خط کے ذریعے تین تجاویز دی تھیں کہ وہ پاناما کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان آئیں یا ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ جمع کرائیں جبکہ آخری تجویز تھی کہ جے آئی ٹی کے دو ممبران قطر جا کر ان کا بیان لیں۔تاہم ذرائع کے مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم نے جے آئی ٹی کی تینوں تجاویز کو مسترد کردیا تھا۔واضح رہے کہ پاناما تحقیقات کے موقع پر ن لیگ کی جانب سے منی ٹریل ثابت کرنے کیلئے قطری شہزادے کے دوخط عدالت میں جمع کرائے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…