جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارت یہ والی غلطی دوبارہ نہ کرے۔۔ ورنہ‘‘ چین کا ہندو سورمائوں کو آخری انتباہ، صورتحال کشیدہ

datetime 30  جون‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور چین نے 1962 کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھارت کو کسی قسم کی محاذ آرائی سے باز رہنے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔چین نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ سرحدی تنازع پر معنی خیز مذاکرات چاہتا ہے تو پہلے سکم سیکٹر کے علاقے ڈونگ لانگ سے اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹائے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے ڈونگ لانگ کے علاقے میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق تصویر میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ علاقے میں موجود دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان تصادم کا سبب بن رہا ہے اور یہ صرف اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے جب بھارت اپنے فوجیوں کو اس علاقے سے دستبردار کرے۔لوکانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں کے غیر قانونی طور پر متنازع سرحدی علاقے میں داخل ہونے کے فوراً بعد ہی بیجنگ اور نئی دلی میں موجود بھارتی حکام کو اس حوالے سے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوجیوں کی دراندازی کی تصاویر جلد ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔علاوہ ازیں چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ووچیان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینی فوج نے ڈونگ لانگ کے علاقے میں کوئی غیر قانونی نقل و حرکت نہیں کی اور اپنی حدود میں ہی آپریٹ کر رہی ہے لہٰذا بھارت اپنا قبلہ درست کر لے، یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ چینی فوجی بھوٹان کی حدود میں داخل ہوئے۔خیال رہے کہ ڈونگ لانگ ایک ٹرائی جنکشن ایریا ہے جس کا کنٹرول چین کے پاس ہے تاہم بھوٹان بھی اس علاقے پر اپنا حق جتاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھوٹان نے الزام عائد کیا تھا کہ چین ڈونگ لانگ سے اپنے فوجی اڈے کی جانب سڑک تعمیر کر رہا ہے اور چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر اس پر کام بند کرے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا چینی فوج نے اس علاقے میں موجود بھارتی فوجی بنکرز کو مسمار کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکاروں نے چینی علاقے میں بھارتی بارڈر گارڈز کی دراندازی کا مناسب جواب دیا کیوں کہ بھارتی فوجی چینی بارڈر ڈیفنس فورس کی معمول کی کارروائیوں میں خلل ڈال رہے تھے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی جانب سے دیے جانے والے اس بیان کو بھی چین نے مسترد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ چینی فوج نے بھارتی آرمی چیف کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ کے لیے پر تولنے سے گریز کریں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…