بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

’’بھارت یہ والی غلطی دوبارہ نہ کرے۔۔ ورنہ‘‘ چین کا ہندو سورمائوں کو آخری انتباہ، صورتحال کشیدہ

datetime 30  جون‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور چین نے 1962 کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھارت کو کسی قسم کی محاذ آرائی سے باز رہنے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔چین نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ سرحدی تنازع پر معنی خیز مذاکرات چاہتا ہے تو پہلے سکم سیکٹر کے علاقے ڈونگ لانگ سے اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹائے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے ڈونگ لانگ کے علاقے میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق تصویر میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ علاقے میں موجود دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان تصادم کا سبب بن رہا ہے اور یہ صرف اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے جب بھارت اپنے فوجیوں کو اس علاقے سے دستبردار کرے۔لوکانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں کے غیر قانونی طور پر متنازع سرحدی علاقے میں داخل ہونے کے فوراً بعد ہی بیجنگ اور نئی دلی میں موجود بھارتی حکام کو اس حوالے سے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوجیوں کی دراندازی کی تصاویر جلد ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔علاوہ ازیں چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ووچیان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینی فوج نے ڈونگ لانگ کے علاقے میں کوئی غیر قانونی نقل و حرکت نہیں کی اور اپنی حدود میں ہی آپریٹ کر رہی ہے لہٰذا بھارت اپنا قبلہ درست کر لے، یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ چینی فوجی بھوٹان کی حدود میں داخل ہوئے۔خیال رہے کہ ڈونگ لانگ ایک ٹرائی جنکشن ایریا ہے جس کا کنٹرول چین کے پاس ہے تاہم بھوٹان بھی اس علاقے پر اپنا حق جتاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھوٹان نے الزام عائد کیا تھا کہ چین ڈونگ لانگ سے اپنے فوجی اڈے کی جانب سڑک تعمیر کر رہا ہے اور چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر اس پر کام بند کرے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا چینی فوج نے اس علاقے میں موجود بھارتی فوجی بنکرز کو مسمار کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکاروں نے چینی علاقے میں بھارتی بارڈر گارڈز کی دراندازی کا مناسب جواب دیا کیوں کہ بھارتی فوجی چینی بارڈر ڈیفنس فورس کی معمول کی کارروائیوں میں خلل ڈال رہے تھے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی جانب سے دیے جانے والے اس بیان کو بھی چین نے مسترد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ چینی فوج نے بھارتی آرمی چیف کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ کے لیے پر تولنے سے گریز کریں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…