جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا اعظم طارق قتل کیس، عدالت کاملزم سبطین کاظمی کے بارے میں اہم حکم جاری ،برطانیہ کاکرداربھی سامنے آگیا

datetime 22  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق قتل کیس کے ملزم سبطین کاظمی پر3 جولائی کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ مولانا اعظم طارق قتل کیس کے ملزم سبطین کاظمی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج کوثر عباس زیدی کے روبرو پیش کیا گیا ۔ اس موقع پر ملزم کی جانب سے ایڈوکیٹ ذوالفقار نقوی نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کرایا۔ عدالت کے جج نے حکم جاری کیاکہ گزشتہ سماعت پر چالان جمع

ہونے کے باعث آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔کیس کی آئندہ سماعت تین جولائی کو ہوگی۔واضح رہے کہ ملزم سبطین کاظمی کو چودہ سال بعد گزشتہ دنوں اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیاتھا جب وہ لندن جارہے تھے۔یاد رہے کہ اعظم طارق کو اکتوبر سنہ 2003 میں اسلام آباد کی حدود میں کشمیر ہائی وے پر اس وقت قتل کیا گیا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جھنگ سے پارلیمنٹ ہاس جا رہے تھے۔ ملزم سبطین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق تحریک جعفریہ پاکستان سے ہے اور اس مقدمےمیں وفاقی حکومت نے ان کی گرفتاری پر دس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ اعظم طارق سمیت پانچ افراد کے قتل کا مقدمہ تین افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا تاہم اس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔حکام کے مطابق ملزم نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دی تھی جس کے بعد انھیں برطانیہ میں قیام کا اجازت نامہ مل گیا تھا۔ ۔اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مولانا اعظم طارق کے قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی کو بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیاتھا۔سبطین کاظمی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے مانچسٹر فرار ہوتے ہوئے انھیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…