پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

فاسٹ باؤلر بننا چاہتا تھا لیکن کس سے متاثر ہو کر سپن باؤلنگ شروع کی، شاداب خان کا برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو،حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد/لندن(آئی این پی)قومی کرکٹ ٹیم کے اسپنر شاداب خان نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سے فاسٹ بولنگ کرنا چاہتا تھے لیکن آسٹریلیا کے کپتان سٹیو سمتھ سے متاثر ہو کر وہ لیگ سپنر بن گئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں شاداب خان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ ٹیپ بال سے فاسٹ بولنگ ہی کیا کرتا تھا، کلب کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی فاسٹ بولنگ کی لیکن کلب کے صدر نے مجھ سے کہا کہ تم لیگ سپن کیا کرو تو میں نے شروع کردی

قومی ٹیم کے اسپنر نے کہا کہ اب وہ سپن بولنگ کے ساتھ خوش ہیں کیونکہ انھیں اللہ نے اسی میں عزت دی ہے۔شاداب خان انگلینڈ اور ویلز میں کھیلی جانے والی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران جو روٹ اور یوراج سنگھ کی وکٹیں لینے پر خوش ہیں۔انھوں نے بتایا کہ وہ گاؤں میں پڑھائی کرتے تھے لیکن پھر وہ صرف اس لیے راولپنڈی آئے تاکہ ان کے بھائی کرکٹ کھیل سکیں۔شاداب کے بھائی تو کرکٹ نہیں کھیل سکے البتہ قسمت ان پر مہربان ہوئی اور انھوں نے پہلے کلب کی جانب سے کرکٹ کھیلی، پھر انڈر 16، اس کے بعد انڈر 19 اور وہاں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر وہ انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلے۔وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان سپر لیگ کے مالکان کی نظر میں آئے اور ان کی ٹیم میں منتخب ہوئے۔یہیس وہ مرحلہ تھا جب ان کی قسمت کا ستارہ چمکنا شروع ہوا اور بلاآخر انھیں پاکستانی ٹیم میں شمولیت کی خوشخبری ملی۔شاداب خان کہتے ہیں’مجھے معلوم تھا میں ٹیم میں سلیکٹ ہونے والا ہوں کیونکہ مجھے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بتایا تھا، اس کے علاوہ اظہر محمود نے بھی مجھے اس بات کا اشارہ دیا تھا اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ نے بہت امید دلائی تھی۔’پاکستان کے سابق سپنر مشتاق احمد کو اپنا استاد ماننے والے شاداب خان کبھی اپنی بولنگ کی وجہ سے مشہور نہیں تھے، ان کی خاصیت پہلے فیلڈنگ پھر بیٹنگ اور آخر میں بولنگ تھی لیکن اب وہ بولنگ کو ہی سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنے آئیڈیل سٹیو سمتھ کے بارے میں بتایا کہ سٹیو سمتھ کو دیکھا لیکن انھیں نہیں بتایا کہ میں ان کا مداح ہوں، سوچا جب ان کے ساتھ کھیلوں گا تو بتاں گا اور وہ موقع برطانیہ میں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں ان کی سب سے زیادہ دوستی حسن علی سے ہے کیونکہ ہم دونوں کی نفسیات ایک جیسی ہیں۔ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کے آپس میں مذاق کے قصے سناتے ہوئے شاداب نے بتایا کہ انھیں ‘شیڈی’ اور حسن علی کو ‘چھوٹو’ پکارا جاتا ہے۔چیمپینز ٹرافی جیتنے کے بعد انگلینڈ سے وطن واپسی پر ہزاروں پرستاروں کے سائے میں شاداب خان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے میچ جیتنے کا مزا ہی اور ہے ملک کا نام روشن کرنے لئے مذید محنت کروں گا تا کہ اچھا کھیل پیش کر کے مذید کامیابیاں سمیٹ سکوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…