جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پانامہ کیس کی تحقیقات‘ جے آئی ٹی کا عید کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 20  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پانامہ کیس کی تحقیقات‘ سپریم کورٹ سے مزید وقت نہ ملنے پر جے آئی ٹی نے عید کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 7 جولائی تک یہ صرف تحقیقات مکمل کی جائیں گی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے عید پر بھی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب تحقیقات ٹیم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سات جولائی سے قبل اپنا

کام مکمل کرلے گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جے آئی ٹی کو ساٹھ دن کا وقت دے رکھا ہے جو سات جولائی کو ختم ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جے ائی ٹی کو یہ بھی کہا تھا کہ آپ کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔ اسی ساٹھ دنوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی جائیں اور اگر اس سلسلے میں مشکلات پیش آئیں یا کوئی ادارہ تعاون نہ کرے تو سپریم کورٹ کو اطلاع دی جائے۔ جس پر جے آئی ٹی نے مختلف اداروں کے حوالے سے سپریم کورٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے اداروں سے جواب بھی طلب کیا ۔ تمام صورتحال کومدنظر رکھتے ہوئے جے آئی ٹی عید پر بھی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تحقیقاتی عمل جاری رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…