جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہماری خارجہ پالیسی پر بات چیت کا حق کسی کو نہیں، قطر

datetime 13  جون‬‮  2017 |

پیرس(آئی این پی ) قطر نے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ‘غیر منصفانہ’ اور ‘غیرقانونی’ قرار دے دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دورہ پیرس کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے خارجہ امور سے متعلق معاملات پر بات چیت کا حق کسی کو حاصل نہیں محمد بن عبدالرحمن ثانی نے قطر پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کے الزامات پر ‘شفاف بنیادوں پر مذاکرات’ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ‘قطر خلیجی ممالک کی سلامتی سے جڑے معاملات پر مل بیٹھ کر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لندن میں برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے کے دوران اپنے سعودی، کویتی اور اماراتی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔قطری وزیر نے کہا ‘اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام فریق اس معاملے کو مزید بڑھانے سے گریز کریں اور ثالثی کی کوشش کا حصہ بنیں’۔موجودہ بحران کے دوران قطر کے تحمل کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘تنازع کے حل کے لیے میں قطر کو مشورہ دوں گا کہ اپنے ہمسایہ ممالک کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے’۔ان کا کہنا تھا کہ قطر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانیہ کا شراکت دار ہے تاہم دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے معاملے کے حل کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔قطر کی حمایت کے لیے یورپی ممالک کے دورے پر روانہ ہونے والے قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو اندازہ نہیں کہ قطر مخالف ردعمل کی وجہ کیا بنی، ‘یہ ایران یا الجزیرہ کا معاملہ نہیں، اصل وجوہات کا ہمیں علم نہیں۔تاہم انہوں نے کویت کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔
دوسری جانب قطر ایئرویز نے اقوام متحدہ سے خلیجی ممالک کی جانب سے ایئرلائن کے بائیکاٹ کو ‘غیرقانونی’ اور بین الاقوامی ہوائی مواصلات کے 1944 کے کنونشن کی خلاف ورزی قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔ایک انٹرویو میں قطر ایئرویز کے سربراہ اکبر البکر نے پابندی کو ‘غیرقانونی بندش’ قرار دیا اور اقوام متحدہ کی سول ایوی ایشن برانچ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔واضح رہے کہ قطر ایئرویز نے چند سالوں میں دوحہ کو عالمی مرکز کی حیثیت پر پہنچادیا تھا، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک کی بندش ایئرلائن کی پوزیشن کو غیرمستحکم کرنے کا سبب بنے گی۔دوسری جانب قطر کی جانب سے عمان کی بندرگاہوں تک براہ راست سامان کی ترسیل کے آغاز کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ خلیجی ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے نمٹا جاسکے۔یاد رہے کہ سعودی عرب نے قطر تک واحد زمینی راستے کو بند کرکے نہ صرف تازہ کھانے پینے کی اشیا بلکہ 2022 میں منعقد ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار خام مال کی درآمدات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…