جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

جمشید دستی کو کیوں گرفتار کیا گیا ؟ حکومت کا اس سے کیا تعلق ہے ؟ دعوے نے ہلچل مچا دی

datetime 11  جون‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے کہا ہے حکومت جے آئی ٹی کو جوابات دینے سے قاصر ہے،توجہ ہٹانے کیلئے جمشید دستی کی گرفتاری جیسے اقدامات کررہی ہے،مٹھائیاں بانٹنے والے بھاگنے کی تیاریاں کررہے ہیں،احتساب کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے ۔

وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ تحقیقات تک مستعفی ہوجائیں۔سپریم کورٹ سے بھرپور تعاون کریں گے،جمشید دستی کی رہائی کامطالبہ کرتا ہوں۔جمشید دستی نے صدر کی تقریر کے دوران احتجاج ریکارڈ کرایا اس لیے ان کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی ۔شیخ رشید پر ایک کارکن کے ذریعے حملہ کرایا گیا۔ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا پی ٹی آئی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ اسپیکر سے درخواست کی ہے۔جمشید دستی کی رہائی کا مطالبہ کرتاہوِں۔اسپیکر سے کہا کہ بجٹ سیشن میں جمشید دستی کو بلوایا جائے۔اسپیکر سے پوچھا کیا جمشید دستی کی گرفتاری کی اجازت لی؟ اسپیکر نے کہا مجھے اطلاع دی گئی تھی۔جمشید دستی نے صدر کی تقریر کے دوران احتجاج ریکارڈ کرایا۔شاہ محمود قریشی نے کہا ایک وزیر نے انھیں دھمکی دی کہ اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔جمشید دستی کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی۔شیخ رشید پر ایک نمائندے،کارکن کے ذریعے حملہ کرایا گیا۔جمشید دستی کو بلا کر ان کا موقف سنا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جے آئی ٹی کو جوابات دینے سے قاصر ہے۔حکومت جے آئی ٹی سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسے اقدامات کررہی ہے۔

مٹھائیاں بانٹنے والے بھاگنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا احتساب کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ن لیگ قانون وانصاف کی راہ میں رکاوٹ بنی تو ہم قانونی اداروں کے ساتھ ہوں گے۔یہ اپوزیشن کو دبانے کی کوشش ہے۔سپریم کورٹ سے بھرپور تعاون کریں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم تحقیقات تک مستعفی ہوجائیں۔( خ ف)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…