جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ پر حملے کیلئے شریف برادران کس کو استعمال کر رہے ہیں؟ معروف صحافی نے شرمناک منصوبے کا بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 8  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ پر حملے کے وقت ن لیگی رہنما گرجے نہیں تھے بلکہ سیدھا سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤس آف شریف کواس بات کی داد دینی چاہیے کہ وہ عدلیہ کو دھمکی ان سے دلوا رہے ہیں جو جنرل مشرف کے ساتھی تھے اور اب مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف یا شہباز شریف کا کوئی قریبی بندہ سپریم کورٹ کو دھمکیاں دینے کے

لیے استعمال نہیں ہونے دیا۔ جو لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں انہیں اگر عدالتیں بلوائیں اور ان کو نا اہل کر کے فرد جرم عائد کر دیا جائے تو (ن) لیگ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار عاجز اور تحمل مزاج انسان ہیں، ان کے لیے افتخار چوہدری جیسا چیف جسٹس ہوناچاہیے تھا۔ جن کو دیکھ کر ان کی ٹانگیں کانپتی ہوں۔ ان کے لیے شریف جج نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ چوہدری افتخار جیسے چیف جسٹس کے سامنے خواجہ آصف صاحب روزانہ کھڑے ہوتے تھے اس وقت انہیں سپریم کورٹ اچھی لگتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…