پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

صلۂ رحمی کے اہتمام پر طعن و تشنیع برداشت کرنا

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

حضرت عثمانؓ ایک سادہ طبع اور نیک نفس بزرگ تھے۔ مزاج میں اتنی پیش بینی نہ تھی۔ نیز اپنے اختیارات سے اپنے قرابت مندوں کو فائدہ پہنچانا صلۂ رحم جانتے تھے۔ ایک دفعہ جب لوگوں نے اس طرز عمل کی اعلانیہ شکایتیں کیں تو حضرت عثمانؓ نے صحابہ کو جمع کیا

اور خدا کا واسطہ دے کر پوچھا کہ کیا رسول اللہؐ قریش کو تمام عرب پر ترجیح نہیں دیتے تھے اور کیا قریش میں بنو ہاشم کاسب سے زیادہ خیال نہیں رکھتے تھے؟ لوگ خاموش رہے تو ارشاد فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجی ہوتی تو تمام بنی امیہ کو اس میں بھر دیتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…