جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’انتظار کی گھڑیا ں ختم ‘‘ پاکستانی عوام کی دل کی دھڑکیں تیز ۔۔۔ آج کیا کام ہو نے جا رہا ہے ؟

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)آئندہ مالی سال 2017-18ء کا تقریباً 48کھرب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس (آج)جمعہ کو سپیکر سر دار ایاز صادق کی زیر صدارت چار بجے پارلیمنٹ ہائوس میں ہوگا جس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2017-18ء کا تقریباً 48کھرب روپے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کرینگے ۔

ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں بلند اقتصادی شرح نمو، مالیاتی نظم و نسق برقرار رکھنے، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، برآمدات و سرمایہ کاری کے فروغ، عام لوگوں کو ریلیف کی فراہمی، عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے سماجی و اقتصادی بہتری کیلئے مزید اقدامات پر توجہ دی جائیگی ٗ بجٹ انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی کے علاوہ معاشرہ کے غریب اور محروم طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے سماجی تحفظ کے پروگرام کیلئے فنڈز بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں سماجی شعبہ کی ترقی کے علاوہ محصولات بڑھانے کیلئے اقدامات اور گورننس میں بہتری کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی توجہ دی جائیگی۔ ریونیو کے حوالہ سے حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری، ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات دینے جیسے متعارف کرائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 6 فیصد تک بڑھانے کیلئے مالیاتی و پالیسی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2017-18ء کو پیش کرنے سے متعلق تمام تیاریاں کر لی گئی ہیں اس سلسلے میں تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ذریعے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے سلسلہ میں اس کی تیاری میں تمام شراکت داروں کے ساتھ بھرپور مشاورت کی گئی ۔

یاد رہے کہ قومی اقتصادی کونسل نے 19 مئی کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 6 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی تھی ۔ این ای سی نے آئندہ مالی سال کیلئے 25کھرب روپے کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کی بھی منظوری دی ہے جس میں 1001 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام اور 1112 ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کیلئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…