جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان کے عوام کوکچھ نہیں دیاگیا،شاہ زین بگٹی نے جدوجہد کا اعلان کردیا

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

چھتر(آئی این پی ) جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہاہے کہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں عوام کو طفیل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں دیاہے ،بلوچستان کے عوام کی ترقی کیلئے صحیح معنی میں جدوجہد ہوتی تو آج یہاں کے لوگوں کو علاج کیلئے دوسرے صوبوں نہ جاناپڑتا ،بلوچستانی عوام کی محرمیوں کے خاتمہ کے لیئے جمہوری وطن پارٹی قومی وصوبائی اسمبلی کے فور م پر بھرپورانداز میں آواز بلند کریگی ۔

وہ صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے ۔اس سے قبل انہوں نے نے سردار سید عبد اللہ شاہ آف شاہ پور ڈویثرن نصیرآباد پیپلزپارٹی صدر سید خادم حسین شاہ کی والدہ کی وفات پر تحصیل چھتر اندرون گوٹھ سید سردار سید میر محمد شاہ میں اظہا ر تعزیت کیا۔ اس کے بعد سید ہاؤ س میں جمہوری وطن پارٹی سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات بلوچستان کے عوام کو ملنا مشکل نظر آ رہا ہے، موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومت ہمیشہ بلوچستان کی عوام کوطفیل تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیاجس کا زندہ ثبوت وکیلوں پر حملے کے بعدزخمیوں کو علاج کیلئے بلوچستان سے دوسروں صوبوں میں لے جایا گیا ،پولیس سینٹر میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ہائی ایس وین گاڑی چھتوں پر رکھ کر ان کے علاقوں میں پہنچایاگیا ،سی پیک کے فوائدبھی بلوچستان کے عوام کو ملنا مشکل نظرآرہاہے ،کئی دہائیوں سے بلوچستان کی ملنے والے وسائل سے کوئی فائدہ نہیں پہنچاہے ،بلوچستان کی پسماندگی سب کے سامنے عیاں ہے ۔سی پیک منصوبوں میں بلوچستان میں انٹرنیشنل لیول ہسپتال بنائے جاتے تو بلوچستان کی عوام کو علاج کے لیئے دوسروں صوبوں کارخ نہیں کرناپڑتا،نواب زادہ شاہ زین بگٹی نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دیگر صوبوں میں ترقی نہ ہو ملک میں ہم ترقی کے خواں ہیں

جس طرح ملک میں دیگر صوبوں میں ترقی ہو رہا ہے اسی طرح وفاق بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی راہیں کھول دے۔بلوچستان کو پسماندہ رکھنے سے بلوچستان کی عوام میں مایوسی اور نفرت کی فضاء پیداہورہی ہے ، جمہوری وطن پارٹی آنے والے الیکشن میں بلوچستان بھر میں اور سندھ اور پنجاب سے بھی اپنے امیدوار کھڑاکرے گی ۔آنے والے دور میں وفاق میں مخلوط حکومت بنے گی ۔وزیر اعظم مسلم لیگ ن سے آئے گا اوربلوچستان میں بھی مخلوط حکومت وجود میں آئے گا۔ انھوں نے آخر میں کہا بلوچستان کی عوام محرمیوں کی خاتمہ کے لیئے جمہوری وطن پارٹی قومی اسمبلی فورم اور بلوچستان اسمبلی فور م خاتمہ پر بھر پور آواز اٹھائیں گے ۔حقیقی معنوں میں حل کرنے کی بھی عملی اقدامات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…