جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد،سیکرٹریٹ میں اہم ترین عمارت میں سرکاری ملازم کی خودکشی،افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزارت داخلہ کے نائب قاصد محمد اقبال نے پاک سیکرٹریٹ کے ’’آر‘‘ بلاک کی چھٹی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی‘ محمد اقبال چھٹیاں گزارنے کے بعد اپنے بیٹے کو لیکر دفتر آیا اور اپنی جگہ اپنے بیٹے کو ملازمت دلوانا چاہتا تھا لیکن وزارت داخلہ کے افسروں اور عملے نے کہا کہ آپ کے بیٹے کو اس صورت میں نوکری ملے گی جب آپ دوران سروس فوت ہونگے جس پر دلبرداشتہ ہو کر اقبال نے چھٹی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

اقبال کی نعش پولی کلینک میں پوسٹمارٹم کے بعد ان کے آبائی گاؤں شور کوٹ روانہ کردی گئی۔ منگل کو وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اقبال نامی نائب قاصد چھٹیاں گزارنے کے بعد دوبارہ اپنی ملازمت پر آیا تو ایڈمن برانچ میں اس نے اپنے بیٹے کو بھرتی کرنے کے لئے بات چیت کی اور کہا کہ اس کی ایک سال کی ملازمت باقی ہے میری جگہ میرے بیٹے کو بھرتی کیا جائے جس پر وزارت داخلہ کی ایڈمن برانچ کے عملے اور افسر نے کہا کہ آپ کے بیٹے کو صرف اسی صورت میں آپ کی جگہ نوکری ملے گی اگر آپ دوران سروس وفات پاجائیں۔ جس پر اقبال کا وہاں جھگڑا ہوا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر آر بلاک کی چھت پر چڑھ گیا اور کہا کہ میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہوں پھر آپ میرے بیٹے کو ملازمت دے دینا۔ وزارت داخلہ کے بے رحم افسروں نے اقبال کو کہا کہ وہ خودکشی کرلے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں جس کے بعد اقبال نے چھٹی منزل سے چھلانگ لگائی اور وہ ایڈمن برانچ کے سامنے آکر گرا اور سڑک پر تڑپتا رہا لیکن وزارت داخلہ کے کسی افسر یا عملے کے رکن نے اسے اٹھایا تک نہیں۔ وزارت خزانہ کے ملازمین نے اقبال کو اٹھا کر پولی کلینک منتقل کیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ پولی کلینک میں پوسٹمارٹم کے بعد اقبال کی نعس اس کے آبائی گاؤں شور کوٹ روانہ کردی گئی۔ دوسری طرف اقبال کے بیٹے پر وزارت داخلہ کے افسروں کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ آپ موقف اختیار کریں کہ میرا باپ ذہنی مریض تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…