جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’حکمت یارکی بھارتی سفیر سے ملاقات‘‘ دورہ بھارت کی دعوت پر ایسا جواب دیدیا کہ مودی سرکار سٹپٹا کر رہ گئی

datetime 20  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق افغان وزیراعظم و حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر حکمت یار سے افغانستان میں تعینات بھارتی سفیر وہرامن پریت کی ملاقات، دورہ بھارت کی دعوت پر حکمت یار نے کھری کھری سنا دیں، مسئلہ کشمیر حل کرنے کا مطالبہ، افغانستان میں بھارتی کردار پر بھی تحفظات کا اظہار۔ تفصیلات کے مطابق سابق افغان وزیراعظم و حزب اسلامی

افغانستان کے سربراہ انجینئر حکمت یار سے افغانستان میں تعینات بھارتی سفیر وہرامن پریت نے ملاقا ت کی ہے ۔ ملاقات میں انجینئر حکمت یار نے بھارتی سفیر کی جانب سے دورہ بھارت کی دعوت مسترد کرتے ہوئے علی گیلانی اور حریت قیادت سے ملاقات کی اجازت سے مشروط کر دیا۔ پاکستان کے مؤقر قومی اخبار روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق حکمت یار نے افغانستان میں بھارتی کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی سفیر پر واضح کیا ہے کہ اگر بھارت افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے تو افغانستان میں صرف ترقیاتی پروجیکٹ تک اپنا کردار محدود رکھے۔ اس موقع پر افغان رہنما نے بھارتی سفیر سے علی گیلانی کی صحت کے حوالے سے خدشات اور تحفظات کا بھی اظہار کرتے ہوئے انہیں علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی بھی اپیل کی۔ اس موقع پر حکمت یار نے بھارتی سفیر پر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے حوالے سے زور بھی دیا۔ حکمت یار نے بھارتی سفیر پر واضح کیا کہ اگر بھارت انہیں علی گیلانی اور دیگر حریت قیادت سے ملاقات کی سہولت فراہم کرے تو بھارت آسکتے ہیں ، حکمت یار کے اس دو ٹوک جواب اور مسئلہ کشمیر پر ان کے موقف نے بھارتی سفیر پر سکتہ طاری کر دیا۔واضح رہے کہ بھارت حریت کانفرنس کے ساتھ مـذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے حکمت یار کی خدمات لینے پر غور کر رہا ہے جس کیلئے تاحال مشاورت جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…