ایک صحابیہؓ کے یہاں بیٹا پیدا ہوا۔ شوہر جہاد پر گیا ہوا ہے۔ جس دن شوہر کو آنا ہے تو اس دن چند گھنٹے پہلے بیٹا فوت ہوگیا۔ اب پریشان بیٹھی ہے کہ خاوند اتنے عرصے میں آئے گا اور جب یہ معلوم ہوگا کہ بیٹا فوت ہوگیا تو اسے کتنا صدمہ ہو گا۔ دل میں افسوس ہو گا۔ کاش بچے کو زندگی میں آ کر پیارہی کر لیتا۔ جب صحابیہؓ بہت پریشان ہوئی تو اس نے بچے کو نہلا کر کپڑا ڈال کر چارپائی پر رکھ دیا۔ کسی کو اطلاع نہ دی۔
خاوند گھر آیا تو پوچھا کیا بنا۔ بتایا کہ اللہ نے بیٹا دیا۔ پوچھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے۔ کہا کہ وہ سکون میں ہے۔ خاوند سمجھا کہ وہ سو رہا ہے۔ چنانچہ خاوند نے کھانا کھایا تو رات ہو گئی۔ میاں بیوی اکٹھے بھی ہوئے۔ سفر کی باتیں بھی ہوئیں لیکن اس عورت کو دیکھئے جو ماں تھی اس کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی جس کے معصوم بیٹے کی لاش سامنے چارپائی پر پڑی ہوئی ہو لیکن وہ خاوند کی خوشی کی خاطر سینے پر سل رکھ کر اس راز کو چھپائے بیٹھی ہے کہ میرے خاوند کا دل غمزدہ نہ ہو۔ وہ اس کے ساتھ کھانا بھی کھا رہی ہے۔ ہنس بول بھی رہی ہے۔ دونوں مل بھی رہے ہیں حتیٰ کہ اسی حال میں صبح ہو گئی۔ صبح اپنے خاوند سے پوچھتی ہے کہ مجھے ایک بات بتائیے۔ خاوند نے کہا۔ پوچھو کہنے لگی اگر کوئی کسی کو امانت دے اور پھر کچھ عرصہ بعد واپس مانگے تو وہ خوشی سے دینی چاہیے یا غمزدہ ہو کر۔ خاوند نے کہا کہ خوش ہو کر۔ کہا کہ اچھا آپ کو بھی اللہ نے امانت دی تھی۔ آپ کے آنے سے کچھ پہلے اللہ نے وہ امانت واپس لے لی۔ اب جائیے اور خوشی خوشی اللہ کے حوالے کر دیجئے۔ اللہ اکبر۔ اس صحابیہؓ نے حسن معاشرت کا حق ادا کر دیا۔ صبح ان کے خاوند رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اللہ کے نبیؐ میرے گھر میں یہ معاملہ ہوا۔ میری بیوی نے میری خوشی کی خاطر اتنے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اللہ کے نبی نے دعا دی۔ چنانچہ اللہ نے اس رات میں برکت ڈالی اور وہ عورت اپنے خاوند سے ملنے کی وجہ سے حاملہ ہوئی۔ اللہ نے ان کو ایک اور بیٹا عطا کیا اور جو حافظ قرآن بھی بنا اور حافظ حدیث بھی بنا۔



















































