پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب،قتل کی لرزہ خیز واردات ،باپ نے 2کمسن بیٹوں کو چھری سے ذبح کر کے خود بھی اپنی گردن پر چھری پھیر لی

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

بورے والا (آئی این پی )بورے والا کے نواحی گاؤں چک 503/EBمیں قتل کی لرزہ خیز واردات بیوی کی بے وفائی سے دلبرداشتہ نوجوان نے اپنے دو کمسن بیٹوں کو چھری سے ذبح کر کے خود بھی اپنی گردن پر چھری پھیر کر خود کشی کر لی پولیس تھانہ صدر نے نعشیں قبضہ میں لے کر مقدمہ درج کر لیا تفصیلات کے مطابق چک 503/EBکے خالد محمود ولد مختار احمد آرائیں کی شادی دس سال قبل جھنگ میں اپنی ماموں زادتسنیم

اختر سے ہوئی تھی جس کے بطن سے دو بیٹے 9سالہ احسان اور 5سالہ زین تھے تسنیم اختر نے موبائل فون پر لاہور میں اپنے مبینہ آشنہ سے تعلقات بنا رکھے تھے 20روز قبل تسنیم اپنے بچوں کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر لاہور اپنے آشنا کے پاس پہنچ گئی اور وہاں جا کر سول کورٹ میں اپنے خاوند کے خلاف تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کر دیا جس کی 20مارچ کو سماعت کے سلسلہ میں کل 17مارچ کو اسے نوٹس موصول ہوا خالد محمود کے کزن سعید اقبال کے مطابق وہ نوٹس آتے ہی بددل ہو گیا اور اس نے عدالتی نوٹس وصول نہیں کیا 18اور 17مارچ کی درمیانی شب خالد محمود نے اپنے دونوں بیٹوں کو چائے میں نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کر دیا اور تیز دھار چھری سے دونوں کے گلے کاٹ کر ابدی نیند سلا دیا اور بعد ازاں اسی چھری سے اپنا گلا بھی کاٹ کر خود کشی کر لی آج صبح اس کا کزن سعید اقبال بچوں کے لیے ناشتہ لے کر گیا تو دروازہ اندر سے بند تھا کو ئی جواب نہ آرہا تھا تو انہوں نے دروازہ توڑ کر دیکھا تو کمرے میں تینوں باپ بیٹوں کی خون میں لت پت نعشیں پڑی ہوئی تھیں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی بورے والا ملک طاہر مجید اور ایس ایچ او تھانہ صدر رانا محمد اکرم نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور نعشوں کو پوسٹمارٹم کے لیے THQہسپتال بورے والا پہنچایا پولیس تھانہ صدر نے زیر دفعہ 302اور 325ت پ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…