پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلیاں،پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 17  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)ایوان بالا نے پاکستانی موسمیاتی تبدیلی بل 2017ء کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہاکہ بل کی دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظوری پر سب کا شکر گزار ہوں۔ یہ تاریخی بل ہے ‘ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی‘ بل کے تحت کلائمیٹ چینج اتھارٹی بنائی جائے گی ‘ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ

متاثر ہونے والے ممالک میں 7 ویں نمبر پر ہے ‘ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے والے منصوبوں پر کام کیاجائے گا ‘ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے بل کی منظوری پر وزیر موسمیاتی تبدیلی کو مبارکباد پیش کی۔ جمعہ کو وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا کہ پاکستانی ماحولیاتی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں 7 ویں نمبر پر ہے۔ پیرس کانفرنس میں 144 ممالک نے شرکت کی۔ پاکستان نے پیرس سمجھوتے کی توثیق کی ہے۔ اب اس کی روک تھام کیلئے 100 ارب ڈالر مختص کیا گیا ہے۔ 40 ارب ڈالر پاکستان کو ضرورت ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ بل کے تحت کلائمیٹ چینج اتھارٹی بنائی جائے گی جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے منصوبوں پر کام کرے گی تمام صوبوں کے تعاون سے بل تیار کی اگیا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اس مسئلہ کے حل کیلئے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ یہ بل اہم ہے ا س سے دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ یہ انتہائی اہم بل ہے حکومت کی طرف سے یہ قدم دیر آئے درست آئے کے مترادف ہے۔ زاہد حامد نے کہا کہ دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر بل منظور کرنے پر شکر گزار ہوں۔ یہ تاریخی بل ہے۔ چیئرمین سینٹ  نے بل کی منظوری پرمبارکباد پیش کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…